• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وزیرداخلہ کے طور پر فرنویس بری طرح ناکام، کرسی چھوڑ دیں: سپکال

Updated: September 12, 2026, 2:02 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مہاراشٹرپردیش کانگریس کے صدر نے کہا جب وزراء کے اہل خانہ بھی محفوظ نہیں توعوام کا کیا ہوگا؟

Congress State President Harshvardhan Sapkal. Photo: INN
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال۔ تصویر: آئی این این

’’مہاراشٹر پولیس کا کبھی پورے ملک میں زبردست رعب و دبدبہ تھا، لیکن پچھلے۱۲-۱۳؍ سال کے دوران اس کی ساکھ پر مسلسل داغ لگتے گئے ہیں۔ آج مہاراشٹر پولیس صرف سیاسی مخالفین کو دبانے اور ’وصولی‘ کرنے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ یہ مہاراشٹر کی بدقسمتی ہے اور اس کیلئے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کی ناکام حکمرانی ذمہ دار ہے۔‘‘ مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نےیہ بیان دیا ہے اورسوال قائم کیا کہ ’’ جب ریاست میں وزراء کے خاندان بھی محفوظ نہیں ہیں تو عام آدمی کی سلامتی کا کیا ہوگا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ مہاراشٹر کو طالبان (اسٹیٹ)بنانے والے وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کو اپنی کرسی چھوڑ دینی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایکس صارف نائن الیون حملوں کی ۲۵؍ ویں برسی پرمنٹ بہ منٹ معلومات دے گا

بی جے پی مہایوتی حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ’’فرنویس حکومت میں وزیر اتل ساوے کے بھائی اور بھتیجے پر چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع میں جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس سے قبل جلگاؤں میں مرکزی وزیر کی بیٹی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس معاملے میں خود مرکزی وزیر کو پولیس تھانے جاکر شکایت درج کرانی پڑی تھی۔ ’آقا‘، ’کھوکے‘، کوئتہ گینگ، غنڈوں، بدمعاشوں اور گینگسٹرز کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور وہ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ منشیات کا کالا کاروبار بھی کھلے عام جاری ہے۔ صرف ’ڈرگس فری مہاراشٹر‘ کہنے سے مہاراشٹر کو منشیات کے شکنجے سے آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ اس کیلئے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے، جو دیویندر فرنویس میں نہیں ہے۔‘‘ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ دیویندر فرنویس کی پولیس کیا کام کر رہی ہے، اس کی تازہ مثال پونے پولیس ہے۔ پونے پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے پولیس کمشنر امیتیش کمار، ڈپٹی پولیس کمشنر ملند موہتے اور ایڈیشنل پولیس کمشنر راہل آوارے سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ نابالغ ملزمین کو کار کے بونٹ پر بٹھا کر جلوس نکالنے کے معاملے میں انسانی حقوق کمیشن نے پولیس کو خوب لتاڑا  ہے۔ پونے پولیس کے خلاف کارروائی کی یہ سفارش دیویندر فرنویس کے کام کاج پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے اور ان کی حکمرانی پر بڑا داغ ہے۔سپکال نے کہا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پوری طرح بگڑ چکی ہے اور پولیس کا کردار ’سدرکشَنائے کھلنِگرہنائے‘ یعنی شریف شہریوں کی حفاظت اور مجرموں کی سرکوبی کا نہیں رہا، بلکہ اس کے بالکل برعکس ہوگیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK