Inquilab Logo Happiest Places to Work

فاروق شیخ نے فلموں کی تعداد پر نہیں معیارپر توجہ دی

Updated: March 25, 2026, 10:58 AM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ میں فاروق شیخ کو ایک ایسےاداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے ڈراموں اور متوازی سنیما کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ سنیمامیں بھی ناظرین کے درمیان اپنی خاص شناخت بنائی۔

Farooq Shaikh.Photo:INN
فاروق شیخ۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈمیںفاروق شیخ کو ایک ایسےاداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے ڈراموں اور متوازی سنیما کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ سنیمامیں بھی ناظرین کے درمیان اپنی خاص شناخت بنائی۔فاروق شیخ کی پیدائش ۲۵؍مارچ ۱۹۴۸ءکو گجرات کےشہر بدولی کے قریب ایک گاؤں نشوالی، امراہلی ضلع بڑودہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد مصطفیٰ شیخ ممبئی کےمعروف وکیل تھے۔ 
فاروق شیخ نے قانون کےپیشے میں ناکام رہنے کےبعد تھیٹر کا رخ کیا اور پونےفلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لےلیا۔ کالج کےدنوں میں وہ اداکاری اور اسٹیج ڈراموںمیںحصہ لیتے تھے۔وہ بہت شستہ اردو میں گفتگو کیا کرتےتھے اور ان کا طرز تحریر بھی بہت خوب صورت تھا۔کئی فلمی مکالمہ نگار اپنی اسکرپٹ میں زبان و بیان کی اصلاح فاروق شیخ سے کرایا کرتےتھے۔ کلاسیکی اردو شاعری میں ان کا ذوق بہت اعلی تھا۔ اکثر ولی دکنی، غالب، میر، مومن، فیض، مخدوم محی الدین اور مجاز کے شعر گنگناتے تھے۔
 
 
فاروق شیخ کو۱۹۷۳ءمیںہندوستان کی آزادی پر بننےوالی فلم ’گرم ہوا‘میں کام کرنے کا موقع ملا اور یہیں سے ان کے فلمی کریئرکا آغاز ہوا۔فلموں میں ان کی اصل پہچان متوازی سنیما یا تجرباتی سنیما سے تھی انہوں نے ستیہ جیت رے، مظفر علی، رشی کیش مکھرجی اور کیتن مہتا جیسے ہدایتکاروںکے ساتھ کام کیا تھا۔ انتہائی ذہین اور باصلاحیت فاروق شیخ کی اصل شخصیت فلم بازار میں ان کے ’بھولے بھالےکیریکٹر‘ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔  فاروق شیخ کے فلمی کریئر میں ان کی جوڑی اداکارہ دپتی نول کے ساتھ کافی پسند کی گئی ہے۔۱۹۸۱ءمیںآئی فلم چشم بددور میں سب سےپہلے یہ جوڑی سلور اسکرین پر ایک ساتھ نظر آئی۔اس کے بعد اس جوڑی نےکسی سے نہ کہنا، کہانی، ایک بار چلے آؤ،کتھا، رنگ برنگی ، فاصلے اورٹیل می او خدا میں بھی ناظرین کا دل جیت لیا۔ انہوں نےشبانہ اعظمی کے ساتھ بھی کئی فلمیں کیں جن میں ہدایت کار ساگر سرحدی کی ’لوری‘، کلپنا لاجمی کی ’ایک پل‘ اور مظفر علی کی’ انجمن‘ شامل ہیں۔ہندی فلمی دنیامیں فاروق شیخ ان چنندہ اداکاروں میں شامل ہیںجو فلم کی تعداد کے بجائے اس کے معیار پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے ۴؍ دہائیوں پر مشتمل فلمی کریئر میں تقریباً ۴۴؍فلموں میں ہی کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں امراؤ جان، طوفان، نوری، شطرنج کے کھلاڑی، چشم بددور،ساتھ ساتھ،کلب سکسٹی، شنگھائی، لاہور، بیوی ہو تو ایسی، ساگر،میرے ساتھ چل، بازار،کسی سے نہ کہنا، رنگ برنگی، سلمیٰ، فاصلے، کھیل محبت کا جیسی فلمیں شامل ہیں۔
 
 
۹۰؍ کی دہائی میں انہوں نے مناسب کردار نہ ملنے پر فلموں میں کام کرناکافی حد تک کم کر دیا۔ ۱۹۹۷ءمیںآئی فلم محبت کےبعدانہوں نے تقریبا ۱۰؍سال تک فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا۔۲۰۰۸ء میں تقریباً ۸؍سال کے وقفے کے بعد فاروق شیخ نےفلموں میں دوبارہ اداکاری شروع کی اور  ۲۰۱۳ء تک فلموں سے جڑے رہے۔انہوں نے ۲۰۱۳ء کی ہٹ فلم ’ یہ جوانی ہے دیوانی‘میں کام کیا ۔۲۰۱۰ء میںانھیں فلم ’لاہور‘میں بہترین معاون اداکار کیلئے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔فاروق شیخ نےناظرین کی پسند کا خیال کرتے ہوئے چھوٹے پردے کا بھی رخ کیا اور ایک مشہور ٹی وی شو ’جینا اسی کا نام ہے‘کی میزبانی بھی کی۔ اس کے علاوہ کئی سریلوں میں کام کیا جن میں چمتکار اور جی منتری جی جیسے مزاحیہ سیریل میں اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کی تفریح کی۔اپنی لاجواب، سنجیدہ، مزاحیہ اور دلفریب اداکاری سےناظرین کو رجھانے والے فاروق شیخ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ءکو ۶۵؍برس کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK