کانگریس صدر نے جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 9:33 AM IST | Mumbai
کانگریس صدر نے جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے ایوان بالا میں جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر جان لیوا حملے کی کوشش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے وہاں کی سیکوریٹی کی صورتحال پر سخت سوالات کھڑے کیے اور مرکز سے جموں کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ راجیہ سبھا میں ملکارجن کھرگے نے کہا کہ جموں کشمیر میں فاروق عبداللہ پر حملہ کیا گیا اور اس واقعہ نے وہاں کے حالات پر سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ ایک اہم سیاسی لیڈر کی سیکوریٹی اس طرح خطرے میں پڑ گئی ۔کھرگے نے کہا کہ پہلے جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل تھا اور وہاں کی پولیس اور سیکوریٹی کا نظام مقامی انتظامیہ کے تحت کام کرتا تھا لیکن اب وہاں کی سیکوریٹی براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے وہاں کے حالات بگڑے ہیں اور امن و قانون کی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گیس سلنڈر بحران،یوپی کے کئی شہروں میں افرا تفری
کانگریس صدر نے کہا کہ جب سے جموں کشمیر سے ریاستی درجہ ختم کیا گیا ہے، تب سے وہاں قانون و انتظام کی صورتحال کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہم سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ اگر اس واقعہ میں معمولی سی بھی تاخیر ہو جاتی تو نتیجہ انتہائی سنگین ہو سکتا تھا۔انہوں نے حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی فاروق عبداللہ کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی تو انہیں مکمل سیکوریٹی فراہم کی جانی چاہئے تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عدالت نے راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بند کیا
کھرگے نے کہا کہ اگر موجودہ انتظامیہ جموں کشمیر کے لوگوں کو سیکوریٹی فراہم نہیں کر سکتی تو وہاں جلد از جلد ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہئے۔ ملکارجن کھرگے نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں جموں کشمیر کے لوگ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق جو لوگ سیکولرزم، سوشلسزم اور ملک کی یکجہتی کی بات کرتے ہیں انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو انتہائی تشویش ناک بات ہے۔