بڑی تعداد میںایک ساتھ بکنگ سے کمپنیوں کے سروَر سست پڑ گئے،گیس ایجنسیوںکے باہرمسلسل لمبی قطاریں،سماجوادی کا احتجاج
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 11:59 PM IST | Lucknow
بڑی تعداد میںایک ساتھ بکنگ سے کمپنیوں کے سروَر سست پڑ گئے،گیس ایجنسیوںکے باہرمسلسل لمبی قطاریں،سماجوادی کا احتجاج
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اتر پردیش کے کئی شہروں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ممکنہ کمی سے متعلق افواہوں کی وجہ سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ایک ساتھ گیس سلنڈروں کی بکنگ کر دی جس سے کمپنیوں کے سرور سست پڑ گئے اور کئی جگہوں پر گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ گھریلو ایل پی جی کی فراہمی کافی ہے اور کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔
اس دوران سماجوادی پارٹی کی جانب سے لکھنؤمیںرسوئی گیس کے بحران پر احتجاج کیا گیا۔پارٹی کارکنان نے پلے کارڈ لے کر احتجاج کیا جس پرمختلف نعرےجیسے’نام نریندر ، کام سرینڈر‘،’خالی ہوگیا بھاجپا کے اچھے دنوں کا سلنڈر‘،نام نریندر ،کام سرینڈر،دیش میں ہوا مہنگا سلنڈر‘،’نام نریندر کام سرینڈر،ٹرمپ کے آگے کیا سرینڈر‘ تحریر تھے۔
گیس ایجنسیاں چلانے والوں کے مطابق حال ہی میں نافذ کیے گئے اس اصول کی وجہ سے بھی لوگوں میں گھبراہٹ بڑھی ہے جس کے تحت پچھلی ریفل کے۲۵؍ دن بعد ہی نئی بکنگ کی اجازت ہے۔ آپریٹروں کا کہنا ہے کہ ہزاروں صارفین کی جانب سے ایک ساتھ بکنگ کرنے سے آن لائن نظام پر دباؤ بڑھ گیا اور کئی جگہ سرور عارضی طور پر متاثر ہو گئے۔ اس کے بعد کئی صارفین براہِ راست گیس ایجنسیوں پر پہنچنے لگے اورافرا تفری مچ گئی ۔
میرٹھ میں تقریباً۸۰؍ گیس ایجنسیوں پر لوگوں کی بھیڑ دیکھی گئی۔ کئی صارفین نے شکایت کی کہ بکنگ کے بعد بھی سلنڈر کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ تاہم میرٹھ گیس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نموہ جین نے کہا کہ گھریلو گیس کی فراہمی معمول کے مطابق ہے اور گھبراہٹ کی وجہ سے بار بار بکنگ کرنے سے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ وی کے سنگھ نے بھی کہا کہ ضلع میں گھریلو گیس کی کوئی کمی نہیں ہے اور ذخیرہ اندوزی یا کالا بازاری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ میرٹھ گیس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نموہ جین نے کسی بھی کمی کی تشویش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو ایل پی جی کی سپلائی بغیر کسی رکاوٹ کے معمول کے مطابق جاری ہے ۔ ان کے مطابق صارفین میں گھبراہٹ کی وجہ سے بلاوجہ اور بار بار بکنگ ہو رہی ہے جس سے نظام پر دباؤ پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے موجودہ حالات کی وجہ سے لوگوں میں خوف بڑھ گیا ہے حالانکہ سپلائی چین مستحکم ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔الہ آباد (پریاگ راج) میں ہوٹل اور ریستوراں کے مالکان نے الزام لگایا کہ تجارتی ایل پی جی سلنڈر کھلے بازار میں فروخت کئے جا رہے ہیں۔ کچھ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ تجارتی سلنڈروں کی فراہمی سست ہونے کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ پریاگ راج ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ہر جندر سنگھ نے کہا کہ اس بحران نے ابھی تک کاروبار پر بہت برا اثر نہیں ڈالا ہے، لیکن جلد ہی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل سپلائی روک دی گئی ہے۔ پیر کے روز خبر پھیلنے کے بعد کچھ لوگوں نے۲۵۰۰؍ سے۲۶۰۰؍ روپے میں سلنڈر بیچنا شروع کر دیا۔ کچھ کاروباریوں نے ذخیرہ کر لیا ہے، لیکن یہ صرف دو یا تین دن ہی چل سکے گا۔