کانگریس لیڈر پر ۲۰۲۲ء میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران ساورکر کے خلاف توہین آمیز بیان دینے کا الزام تھا
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 11:57 PM IST | Nashik
کانگریس لیڈر پر ۲۰۲۲ء میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران ساورکر کے خلاف توہین آمیز بیان دینے کا الزام تھا
وک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمان راہل گاندھی کے خلاف ساورکر کی توہین کے معاملے میں دائر کئے گئے مقدمے کو عدالت نے ختم کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ۲۰۲۲ء میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ساورکر پر تبصرہ کیا تھا۔اس پر ناسک میں موجود ’نربھیا فاؤنڈیشن‘ کے صدر دیویندر بھوٹاڈا نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے ۱۵؍ اور ۱۶؍ جون ۲۰۲۲ء کو ہنگولی اور اکولہ میں منعقد ریلیوں کے دوران جو تبصرے کئے، وہ ہتک آمیز اور توہین آمیز تھے۔اس شکایت کی بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۹؍ (ہتک عزت) اور دفعہ ۵۰۴؍ (قصداً بے عزتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ناسک کورٹ نے ستمبر ۲۰۲۴ء میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔ بعد میں راہل گاندھی کو ضمانت مل گئی اور انہیں سماعت میں ورچوئل طور پر شامل ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ راہل گاندھی نے عدالت کے سامنے اپنی بات واضح کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا تھا۔ عدالت نے ستمبر ۲۰۲۴ءمیں ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ ۲۰۲؍ کے تحت جانچ کا حکم بھی دیا تھا۔ پولیس کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد شکایت کنندہ نے مقدمہ واپس لینے کی درخواست کی۔ اس کے بعد ٹرائل جج نے مقدمے کی سماعت ختم کرتے ہوئے ہتک عزت کی کارروائی بند کر دی۔ اس فیصلہ کے ساتھ ہی اس معاملے میں راہل گاندھی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ معاملہ نومبر ۲۰۲۲ء کا ہے، جب راہل گاندھی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ہنگولی اور اکولہ اضلاع میں موجود تھے۔ ۱۷؍ نومبر ۲۰۲۲ء کو اکولہ میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے وی ڈی ساورکر سے متعلق دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ساورکر نے خوف کے باعث انگریزوں کو معافی نامہ لکھا تھا اور وہ پنشن بھی لیتے تھے۔ راہل گاندھی کے اس بیان کی بنیاد پر ناسک کے سماجی کارکن دیویندر بھوٹاڈا نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ بھوٹاڈا کا الزام تھا کہ راہل گاندھی کے بیان سے ساورکر کی شبیہ کو نقصان پہنچا اور کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔