متوفی کی شناخت عمر الدین کے نام سے ہوئی ہے، نند نگری پولیس اسٹیشن نے قتل سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 8:37 AM IST | New Delhi
متوفی کی شناخت عمر الدین کے نام سے ہوئی ہے، نند نگری پولیس اسٹیشن نے قتل سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
مشرقی دہلی کے نند نگری علاقے میں نابالغ بیٹے کے جھگڑے میں بیچ بچاؤ کرنے گئے باپ کے سینے میں دن دہاڑے گولی ماردی گئی جس میں ان کی موت ہوگئی۔ ۱۵؍ سالہ طالبعلم نےجھگڑے کے دوران فون کرکے اپنے والدین کو جائے واردات پر بلایا تھا۔ الزام ہے کہ والدین کو دیکھ کران بیٹے سے جھگڑا کرنے والے ملزم مشتعل ہو گئے اور انہوں نے باپ کو گولی ماردی۔ ارتکاب جرم کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگئے۔ شبہ ہے کہ مجرم بھی نابالغ ہیں۔ متوفی کی شناخت عمر الدین کے نام سے ہوئی ہے۔ نند نگری پولیس اسٹیشن نے قتل سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمین کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی تلاش کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
عمر الدین اپنے خاندان کے ساتھ نند نگری کے علاقے میں رہتے تھے۔ ان کے خاندان میں ان کی اہلیہ رابعہ اور بیٹا تحزیم شامل ہیں۔ تحزیم دسویں جماعت کا طالب علم ہے اور بورڈ کے امتحانات کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ نند نگری بی ۲؍ بلاک میں ٹیوشن پڑھتا ہے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ وہ منگل کی شام۵؍ بجے ٹیوشن کے بعد پیدل گھر واپس آرہا تھا۔ جب وہ اے بلاک میں واقع اسکول کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ کچھ نوجوان اس کے ۲؍ دوستوں کو مار رہے ہیں۔ جب اس نے اپنے دوستوں کو بچانے کی کوشش کی تو ملزموں نے اسے بھی گھیر لیا اور اس پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ لڑکے نے اپنے والد کو فون کر کے واقعہ کی اطلاع دی۔ کچھ دیر بعد اس کے والدین آگئے اورمداخلت کرکے جھگڑا نپٹانے کی کوشش کی جس پر ملزم مشتعل ہو گئے۔ الزام ہے کہ ملزم نے پہلے ہوا میں تین راؤنڈ فائر کیے اور پھر لڑکے کے والدعمر الدین کوسینے میں گولی مار دی۔ واقعہ کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گئے۔ عمرالدین کو زخمی حالت میں جی ٹی بی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
یہ بدقسمت واقعہ اس دن پیش آیا جب عمرالدین کی شادی کی سالگرہ تھی۔ متوفی کے اہل خانہ نے بتایا کہ ۱۷؍ فروری کو عمرالدین کی شادی کو۱۷؍ سال ہوچکے تھے۔ گھر میں خوشی کا ماحول تھا۔ عمرالدین کی چار بیٹیاں اس رات سالگرہ کی تقریبات کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ عمرالدین پیشےسے ٹرک ڈرائیور تھے اورسالگرہ کی مناسبت سے ہی چھٹی پر تھے۔