Inquilab Logo Happiest Places to Work

لائسنس یافتہ بلڈ بینکوں کیلئے ایف ڈی اے کے سخت احکامات

Updated: August 10, 2026, 12:53 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

فوری طور پر موجودہ طریقۂ کار کا جائزہ لینے اور ضروری اصلاحات کرنے کا حکم ، خلاف ورزی پر کارروائی کاانتباہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

خون کی حفاظت ،معیار اور مریض کی سہولت کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ ۱۹۴۰ء کے قوانین اور ۱۹۴۵ء کے دفعات کو سختی سے نافذ کرنے کیلئے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ریاست کے تمام لائسنس یافتہ بلڈ بینکوں اور خون ذخیرہ کرنے والے مراکز کو احکامات دیئے ہیں ۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی کرنے کا انتباہ بھی دیا ہے ۔

  ایف ڈی اے نے خون جمع کرنے ، خون یا خون کے اجزاء کی تقسیم کیلئے واضح طریقۂ کار شائع کرنے اور ان پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔ انسانی خون اور اس کے اجزاء کو کوئی بھی بلڈ بینک یا ادارہ درست لائسنس کے بغیر خون جمع، پروسیس، ذخیرہ یا تقسیم نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ، ہر بلڈ بینک کو ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس قوانین کی شرائط کی تعمیل کرنی ہوگی ۔ ریاست میں بلڈ بینکوں کے ایف ڈی اے کی طرف سے کئے گئے معائنے کے دوران پتہ چلا ہےکہ کچھ مراکز ان شرائط کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں۔ اس لئے ایف ڈی اے نے یہ حکم ان قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کیلئے جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’انگریزو، چلے جاؤ‘ کے بعد اب ’آمریت چلے جاؤ‘ کا نعرہ

ایف ڈی اے کے مطابق ہر بلڈ بینک میں ضروری انفرااسٹرکچر، کونسلنگ روم، کوالیٹی کنٹرول ڈپارٹمنٹ اور بلڈ کمپوننٹ پروسیسنگ کی سہولیات ہونی چاہئیں، کوالیفائیڈ میڈیکل آفیسرز، ٹیکنیکل سپروائزرز، بلڈ بینک ٹیکنیشن، نرسیز اور کونسلرز کو قواعد کے مطابق تعینات کرنا، ہر بلڈ بیگ کا ایچ آئی وی ٹیسٹ، ہیپاٹائٹس بی اور کمپوننٹ اسٹورز اور خون کی جانچ کرنا ضروری ہے۔ مشتبہ خون کے تھیلوں کیلئے علاحدہ انتظامات رکھیں، قواعد کے مطابق لیبل کریں، مقررہ مدت کیلئے ریکارڈ کو محفوظ رکھیں، باقاعدگی سے خود ساختہ جانچ پڑتال کریں، خون کے عطیہ کیمپوں کیلئے ضروری افرادی قوت، آلات، ہنگامی سہولیات، خون کی نقل و حمل اور کیمپ کے بعد کی رپورٹنگ کے نظام کا تعین کریں، ای-بلڈ بینک کے پورٹل پر خون کے اسٹاک اور متعلقہ معلومات کو اپ ڈیٹ کریں اور نظرثانی شدہ معیار یا مستقل خون عطیہ دہندہ کے انتخاب کے معیار کو نافذ کریں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK