Inquilab Logo Happiest Places to Work

’انگریزو، چلے جاؤ‘ کے بعد اب ’آمریت چلے جاؤ‘ کا نعرہ

Updated: August 10, 2026, 12:29 PM IST | Thane

تھانے میں کانگریس کا آئین کے تحفظ کا عزم۔ بے روزگاری، مہنگائی اور نفرت کی سیاست کیخلاف نعرے لگائے گئے۔

Congress office bearers and workers chant slogans in Parthana on August Kranti Day. Photo: INN
اگست کرانتی دن پرتھانے میں کانگریس کے عہدیداران اور کارکنان نعرہ لگاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ملک کی آزادی کی جدوجہد میں فیصلہ کن ثابت ہونے والے اگست کرانتی دن کے موقع پر تھانے شہر کانگریس کی جانب سے مجاہدین ِ آزادی اور شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

۹ ؍اگست ۱۹۴۲ ءکو ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان سے مہاتما گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس نے برطانوی حکومت کے خلاف ‘بھارت چھوڑو’ کا نعرہ دیتے ہوئے ‘کرو یا مرو’ کا  عزم کیا تھا۔ اس تاریخی جدوجہد سے تحریک لیتے ہوئے آج ملک کی جمہوریت، آئین اور سماجی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا گیا اور’ انگریزو، چلے جاؤ‘ کے بعد اب ’آمریت  چلے جاؤ‘ کا کانگریس لیڈروں نے نعرہ دیا ۔اس موقع پر تھانے میں کانگریس کے لیڈروں نے آئین کے تحفظ کا عزم کیا ساتھ ہی  بے روزگاری، مہنگائی اور نفرت کی سیاست کے خلاف نعرے لگائے۔

اتوار کو تھانے کورٹ ناکہ میں ’آئین کی تمہید ‘ کے سامنے سیکڑوں کانگریس عہدیداروں اور کارکنوں کی موجودگی میں شہیدوں کو  خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر آئین کی تمہید کو  اجتماعی طور پر پڑھتے  ہوئے آئین میں درج مساوات، آزادی، انصاف اور اخوت کو گھر گھر پہنچانے کا حلف لیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے پر پھولوں کا ہار چڑھا کر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’انگریزو بھارت چھوڑو تحریک‘ کے موقع پر امن مارچ

اس موقع پر تھانے کانگریس کے صدر راہل پنگلے، رکن ِ پارلیمان کمار کیتکر، بزرگ رہنما سبھاش کانڈے، ریاستی عہدیدار ڈاکٹر گجانن دیسائی، راجیش جادھو، موہن تیواری، ریاستی رکن بھالچندر مہاڈک، ملند کھراڑے، نشی کانت کولی، دھرم راجیہ کے راجن راجے، ایڈوکیٹ پربھاکر تھورات، مہندر مہاتر، سیوا دل کے رویندر کولی سمیت بلاک صدور، یوتھ کانگریس، خواتین اور پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔

  راہل پنگلے (تھانے کانگریس شہر ضلع صدر) نے کہاکہ ’’گاندھی جی نے ۱۹۴۲ ءمیں انگریزوں کو ‘چلے جاؤ’ کا پیغام دیا تھا۔ آج ملک کے سامنے بے روزگاری، مہنگائی، سماجی نفرت اور جمہوری اقدار کو درپیش چیلنجز ہیں۔ اس لئے آج کے دور کا حقیقی انقلابی فریضہ آئین کی اقدار، جمہوریت، مساوات، اخوت اور انصاف کا تحفظ کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK