تین دن گزرنے کے بعد بھی آس پاس کی دکانیں بند۔ چاندنی چوک میں زیادہ تر دوکانیں کھلی رہیں، لیکن بھیڑ نہ کے برابر رہی۔
یہ تصویر دھماکے کے اگلے دن کی ہے ، جس میں چاندنی چوک کے بازار میں سناٹا دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے سامنے پیر کی شام ایک آئی۲۰؍ کار میں دھماکے کے بعد منگل کو دہلی۶؍کا ماحول معمول کے مطابق نہیں ہوسکا۔ اگلے دن لال قلعہ کے آس پاس سناٹا چھایا رہا۔ جہاں عام دنوں میں صبح سے دوکانوں میں چہل پہل شروع ہو جاتی ہے، وہیں چاندنی چوک میں زیادہ تر دوکانیں کھلی رہیں لیکن بھیڑ معمول کے مطابق نہیں تھی۔ لال قلعہ کے نزدیک تمام دوکانیں حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند رہیں۔ گوری شنکر مندر اور شری دگمبر جین لال مندر کھلے رہے، لیکن وہاں زائرین کی آمد نہ ہونے کے برابر تھی کیونکہ پولیس نے آس پاس کے راستوں پر بیری کیڈنگ کر دی تھی۔ لال قلعہ سے چاندنی چوک کی طرف بڑھتے ہوئے منظر کچھ مختلف دکھائی دیا۔ قلعہ کے آس پاس دوکانیں بند تھیں اور بیری کیڈنگ کی وجہ سے لوگ قلعہ کی طرف نہیں جا سکتے تھے۔ آگے بڑھنے پر چاندنی چوک کی دوکانیں کھلی تھیں، لیکن بھیڑ معمول کے مقابلے میں کم تھی۔
دوکانداروں نے بتایا کہ لوگوں میں خوف کا ماحول موجود ہے، جس کی وجہ سے خریدار کم آ رہے ہیں۔ واقعے کے عینی شاہدین میں سے ایک سیتا نارائن جو لال قلعہ کے پاس دوکان پر کام کرتے ہیں نے بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ سب ہل گئے اور علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ تنگ راستوں اور تجاوزات کی وجہ سے بڑے حادثے کا خطرہ پیدا ہو گیا اور چاندنی چوک تھانہ انتظامیہ اس کے ذمہ دار ہے۔ انیس عالم ،کپڑوں کی دوکان کے مالک نے بتایا کہ دھماکے کے وقت ایسا محسوس ہوا جیسے زمین پھٹ گئی ہو۔ سبھی لوگ دوکان بند کر کے گھر واپس چلے گئے اور آج بھی لال قلعہ کے نزدیک دوکانیں بند ہیں۔ کشن گوئل، چاندنی چوک کے دوکاندار نے کہا کہ ان کی دوکان کھلی ہے اور خوف نہیں ہے، لیکن دھماکہ بہت زور دار تھا۔ بھگدڑ کے باوجود لوگوں نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ روہت پانڈے نے بتایا کہ ان کی دوکان چاندنی چوک کی دوسری منزل پر ہے اور دھماکے سے پوری عمارت ہل گئی تھی۔ خوش قسمتی سے کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی۔ واقعہ کے مقام کے قریب موجود دھیرج نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ زمین ہل گئی اور زخمی افراد کے جسم کے ٹکڑے دور تک بکھر گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیر کر شواہد جمع کیے۔ پھلوں کی دوکان کے مالک ببلو نے بتایا کہ وہ ہاربنا رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوا۔ ہار اور سامان گر گیا اور ایک ملازم نیچے گر گیا، خوش قسمتی سے کسی کو شدید چوٹ نہیں آئی۔ آج دوکانیں بند ہیں اور مندر میں زائرین کی آمد نہ کے برابر ہے۔
ہلاک شدگان اور زخمیوں کے اہل خانہ پوری رات پریشان رہے
بم دھماکے کے فوری بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو لوک نائک اسپتا ل منتقل کیا گیا۔ ہسپتال میں ۲۸؍ زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سے ۹؍ کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا۔ زخمیوں میں ۳۲؍ سالہ شیوہ جیسوالا، ۲۸؍ سالہ انکش شرما اور ۳۰؍ سالہ بھوانی شرن شرما وغیرہ شامل تھے۔ شیوہ جیسوالا جو چاندنی چوک شاپنگ کے لیے آئے تھے، دھماکے میں شدید زخمی ہوئے۔ ان کے چہرے پر زخم اور ناک میں فریکچر ہوا، جبکہ کمر اور کندھے میں بھی چوٹیں آئیں۔ انکش شرما کے چہرے پر بھی زخم آئے اور آنکھوں پر اثر پڑا۔ ڈاکٹروں نے پلاسٹک سرجری کی تیاری شروع کر دی ہے۔ زخمیوں کے اہل خانہ نے لوک نائک ہسپتال میں داخلے میں مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ شیوہ جیسوالا کے ماموں شیلندر جیسوالا نے بتایا کہ اہل خانہ کو رات بھر زخمیوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اورہسپتال کے گارڈز بدتمیزی کر کے اہل خانہ کو باہر بھیج رہے تھے۔ اسی طرح انکش شرما کے والد اور دیگر اہل خانہ بھی کئی گھنٹے انتظار کے بعد داخل ہو سکے۔ اسپتال کے باہر کئی دیگر متاثرین کے اہل خانہ بھی اپنے عزیزوں کی تلاش میں پریشان رہے۔ شاملی کے رہائشی وراثت نے بتایا کہ ان کے دو دوست نعمان اور امان چاندنی چوک شاپنگ کے لیے گئے تھے اور دھماکے کے بعد لاپتہ ہو گئے۔ اسی طرح امروہہ سے آئے لوکیش کی تلاش میں اہل خانہ کو رات بھر ہسپتال میں بھٹکنا پڑا۔