قبرستان کی حرمت پامال ہونے کا خدشہ

Updated: September 16, 2020, 10:54 AM IST | Jawed Akhtar | Patna

سیوان میں قبرستان کی چہار دیواری ٹوٹ گئی، تعمیراتی کام میں ناقص اشیاء استعمال کی گئیں، انتظامیہ کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود مرمت نہیں کی گئی ، حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ، احاطے میں مویشی چرتے ہیں ، آوارہ کتے بھی داخل ہوسکتے ہیں

Bihar Cemetery - Pic : Inquilab
سیوان: چہاردیواری نہ ہونے سے قبرستان چرا گاہ میں تبدیل۔ (تصویر:انقلاب

 بہار کے سیوان ضلع کے دروندہ بلاک کے ابھوئی گاؤں میں مقامی افراد کی کئی برس کی لمبی جدو جہد کے بعد جس قبرستان کی چہار دیواری۴؍ سال میں مکمل ہوئی تھی ایک بار پھر وہ قبرستان شرپسندوںکے نشانے پر ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں ٹھیکیدار کے ذریعہ ناقص اشیاء کا استعمال کئے جانے کی وجہ سے چہاردیواری کا ایک بڑا حصہ زمیں بوس ہو چکاہے جبکہ قبرستان کے جنوب کی دیوار کج ہو چکی ہے ۔مقامی افراد کی دوڑدھوپ کے باوجود ضلع انتظامیہ کی سرد مہری اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اب تک اس کی دوبارہ تعمیر نہیں کرائی گئی ہے ۔ مقامی افراد کے مطابق چہار دیواری ٹوٹ جانے سے قبرستان کی حرمت  پامال ہونے اور حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیاہے ۔
 واضح رہے کہ مقامی افراد کی لمبی جد و جہد کے بعدشیعہ وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ۷؍کٹھا پر محیط  مذکورہ قبرستان کی چہار دیواری کے لئے  ۲۰۱۱ ءمیں ۹؍لاکھ ۱۲؍ہزار روپے کی رقم مختص کی گئی تھی ۔ چہار دیواری کا کام ۲؍ قسطوں میں ۲؍ ایجنسیوں کے ذریعہ انجام دیا گیا تھامگر تعمیر کا کام مکمل ہونے کے چند مہینے کے بعد ہی قبرستان کی دیوار کا ایک بڑا حصہ زمیں بوس ہوگیا جبکہ اس کا کچھ حصہ کج ہو گیا ہے۔
  کنٹریکٹر سنیل کمار اور وریندر کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے اس کی تعمیر میں ناقص اشیاء کا استعمال کیا تھا جس کی وجہ سے دیوار گری ہے۔شیعہ وقف بورڈ نے ۳؍اگست ۲۰۱۷ء کو اس معاملے کی جانچ اور کارروائی کے لئے درخواست دی اور اس کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کیا    ۔  اس کے باوجود اس معاملے میںجب کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو شیعہ وقف بورڈ نے۲۱؍اگست کو محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود سے رجوع کیا اور کارروائی کے لئے تحریری شکایت بھی درج کروائی لیکن محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کی تحریری شکایت پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے بعد شیعہ وقف بورڈ کے رکن اور ابھوئی کے مقامی باشندہ شمیم رضوی نے اس کی شکایت ۱۳؍جنوری ۲۰۱۸ ؍کو بہار ازالہ شکایت عامہ میں درج کرائی ۔درج شکایت کے بعد ازالہ شکایت عامہ کو جو رپورٹ سونپی گئی ،اس کے مطابق قبرستان کی چہار دیواری   دو قسطوں میں تعمیر کرائی گئی تھی ۔ اس کی رپورٹ کے مطابق منہدم دیوار کی لمبائی ۵۵؍فٹ ہے جس میں کوئی بیم یا پیلر ہے اور نہ ہی اس کی انٹر لاکنگ کی گئی ہے ۔تعمیراتی کام میں ناقص اشیاء کا استعمال کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے جن ایجنسیوں کو یہ رقم دی گئی تھی انہیں ازالہ شکایت کمیٹی نے قصوروار ٹھہرایا ہے ۔
  مقامی افراد اور شیعہ وقف بورڈ کے رکن شمیم رضوی کی دوڑ دھوپ اور تگ و دو کے بعد ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ افسر نے دروندہ بی ڈی او  سے ۲۰؍مارچ ۲۰۲۰ ءکو مکتوب نمبر ۱۳۶؍کے ذریعہ اس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ اس معاملے میں انہوں نے اب تک کیوں کارروائی نہیں کی مگر بی ڈی او نے اس معاملے میں اب تک اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے ۔
  انقلاب کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی ڈی او کی سطح سے اس معاملے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی گئی ۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ بی ڈی او نے ٹھیکیداروں کو بچانے کی کوشش کی ۔
  اس معاملے میں بہار اقلیتی کمیشن نے بی ڈی او دروندہ سے جب رابطہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ وہاں اب نئے بی ڈی او نے چارج سنبھال لیا ہے ۔ بی ڈی او نے اسے اپنی سطح سے حل کرنے کی یقین بھی دلا یا ہے ۔ اب دیکھناہے کہ کتنی جلد اس معاملے میںکارروائی ہوتی ہے ؟
  مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر قبر ستان کی چہار  دیوار کی تعمیر فوری طور پر نہیں کی گئی تو  اس سے  حالات کشیدہ ہوسکتےہیں ، کیونکہ دیوار گرنے کے بعد کچھ قبرستان کےا حاطے میں چرنے کیلئے مویشی چھوڑ دیتے ہیں ۔ قبر ستان کی چہار دیواری کے ٹوٹے ہوئے حصے سے آوارہ کتے بھی اندر داخل ہوسکتےہیں۔ 

patna bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK