ندی کو بچانا زندگی کو بچانا ہے،پہاڑ کو بچانا تحفظ کو بچانا ہےاور جنگل کو بچانا سانس کو بچانا ہے۔یہ تینوں محفوظ رہیں گے تو ہی انسانی معاشرہ محفوظ، متوازن اور باوقار زندگی گزار سکے گا۔اس لئے ندی، جنگل اور پہاڑ کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی مفاد سے بالا تر ہو کر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
بہار کے اسمبلی انتخاب کے وقت اپوزیشن لیڈران نے بھاگلپور میں سیکڑوں ایکڑ زمین جو جنگلات سے بھرے پڑے ہیں اسے ایک نجی کمپنی کو محض ایک روپے کے سالانہ معاوضے کے طورپر دیئے جانے پر خوب واویلا مچایا تھا مگر انتخابی نتائج کے بعد وہ معاملہ بالکل سرد پڑ گیا۔ البتہ کبھی کبھی اس مسئلے کو لے کر اخباروں میں خبریں آتی ہیں کہ کس طرح موجودہ حکومت کا آمرانہ رویہ سامنے آیا ہے ۔اسی طرح حال ہی میں اراولی پہاڑ کو لے کر بھی تنازع شروع ہواہے اور اب عدالتِ عظمیٰ کو بھی اپنا ہی ایک فیصلہ ملتوی کرنا پڑا ہے کہ از سرِ نو اراولی پہاڑ کے تحفظ کیلئے قانون بنائے جائیں گے۔ ندیوں کے سلسلے میں بھی آئے دن یہ خبر آتی رہتی ہے کہ کس طرح ندیاں زہر آلود ہو رہی ہیں ، خاص کر جمنا ندی کے بارے میں بھی عدالت کو مداخلت کرنی پڑی ہے بلا شبہ انسانی تہذیب کی پوری تاریخ اگر غور سے دیکھی جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی بقاء، اس کی معاشرت، اس کی ثقافت اور اس کی فکری نشوونما فطرت کے چند بنیادی عناصر سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ ان عناصر میں ندی، پہاڑ اور جنگل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تینوں محض قدرتی مناظر یا جغرافیائی ساختیں نہیں بلکہ انسانی معاشرے کے لئے زندگی، تحفظ، توازن اور تسلسل کی علامت ہیں۔ مگر افسوس کہ جدید صنعتی دور میں، خاص طور پر ماحولیاتی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران کے تناظر میں، انسان نے ان قدرتی نعمتوں کی قدر کو فراموش کر دیا ہے۔
ندی کو انسانی تہذیب کی ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ دنیا کی تمام قدیم تہذیبیںوادی ٔسندھ، نیل، دجلہ و فرات ندیوں کے کنارے پروان چڑھیں۔ ندی نے انسان کو پانی دیا، زراعت کی بنیاد رکھی، نقل و حمل کے راستے فراہم کئے اور سماجی رشتوں کو مضبوط کیا۔لیکن آج ندی کی یہ تقدیس خطرے میں ہے۔ صنعتی فضلہ، گھریلو گندگیاں، کیمیائی کھادیں اور پلاسٹک نے ندی کو زندگی کے سرچشمے سے زہر کے بہاؤ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کے سبب ندی کا فطری توازن بگڑ چکا ہے، جس کا براہِ راست اثر انسانی صحت، زراعت اور آبی وسائل پر پڑ رہا ہے۔
پہاڑ فطرت کے وہ خاموش محافظ ہیں جو انسانی معاشرے کو بے شمار فوائد پہنچاتے ہیں۔ یہ بارش کے نظام کو منظم کرتے ہیں، ندیوں کے سرچشمے اور موسمیاتی توازن قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔پہاڑوں کی موجودگی نہ ہو تو نہ صرف ندیوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے بلکہ زمین سیلابوں، زمینی کٹاؤ اور موسمی بے اعتدالی کا شکار ہو جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کے دور میں پہاڑوں کی قدر مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ قدرتی فلٹر کا کام کرتے ہیں اور زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بریلی کی واردات اور’وِکست بھارت‘ پر سوال
جنگل کو بجا طور پر زمین کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔ یہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھتے ہیں۔ انسانی معاشرہ براہِ راست یا بالواسطہ جنگلات پر انحصار کرتا ہے چاہے وہ خوراک ہو، ادویات ہوں یا موسمیاتی استحکام۔ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں جنگلات کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی صنعتی سرگرمیوں اور شہری توسیع نے جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ، فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔جنگل صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی ورثہ بھی ہیں۔ قبائلی معاشرے، دیہی ثقافت اور روایتی علم کا بڑا حصہ جنگلات سے وابستہ ہے۔ جب جنگل ختم ہوتے ہیں تو صرف درخت نہیں گرتے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کمزور ہو جاتے ہیں۔آج انسانی معاشرہ جس بڑے بحران سے دوچار ہے وہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ یہ آلودگی دراصل انسان کے غیر ذمہ دارانہ رویّے کا نتیجہ ہے۔ ندی کو نالی، پہاڑ کو خام مال اور جنگل کو تجارتی شے سمجھنے کا تصور انسان کو فطرت سے دور لے گیا ہے۔فضائی آلودگی، آبی آلودگی اور زمینی آلودگی نے انسانی صحت، خوراک کے نظام اور معاشرتی استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین ماحولیات بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ندیوں، پہاڑوں اور جنگلات کی حفاظت نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں شدید بحران کا سامنا کریں گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان ترقی کے تصور پر نظرِ ثانی کرے۔ ترقی وہ نہیں جو فطرت کو تباہ کرے بلکہ وہ ہے جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور چین کی تجارتی حریفائی اور عالمی غلبہ کی جنگ
ندیوں کی صفائی، پہاڑوں کی غیر سائنسی کھدائی پر پابندی اور جنگلات کے تحفظ کیلئے مؤثر پالیسیاں ناگزیر ہیں۔ ساتھ ہی تعلیمی نصاب اور سماجی شعور میں ماحولیاتی اقدار کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ندی،پہاڑ اور جنگل انسانی معاشرے کیلئےمحض فطری وسائل نہیں بلکہ زندگی کی بنیاد ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے موجودہ دور میں ان کی قدر اور بھی لازم ہو جاتی ہے۔ اگر انسان نے آج ان قدرتی نعمتوں کی حفاظت نہ کی تو کل اسے اپنی بقا ءکے لئے ترسنا پڑے گا۔مختصر یہ کہ ندی کو بچانا زندگی کو بچانا ہے،پہاڑ کو بچانا تحفظ کو بچانا ہے،اور جنگل کو بچانا سانس کو بچانا ہے۔یہ تینوں محفوظ رہیں گے تو ہی انسانی معاشرہ محفوظ، متوازن اور باوقار زندگی گزار سکے گا۔اس لئے ندی، جنگل اور پہاڑ کو لے کر تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی مفاد سے بالا تر ہو کر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف انسانی معاشرہ معاشی بدحالی کا شکار ہے اور دوسری طرف ماحولیاتی جبر کو جھیلنے پر مجبور ہے اور یہ جبر فطری نہیں بلکہ ہم انسانوں نے خود ہی پیدا کئے ہیں ۔ ریاست بہار میں بھی بھاگلپور اور گردونواح کے لوگوں کے ذریعہ حکومت کی اس فیصلے کی مخالفت محض اس لئے کی جا رہی ہے کہ سیکڑوں ایکڑ جنگلات کی کٹائی کے بعد اس علاقے میں ماحولیاتی توازن بگڑے گا اور اس کے مضر اثرات نمایاں ہوں گے۔اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ جب وہاں کل کارخانے کھلیں گے تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے لیکن تلخ سچائی یہ ہے کہ جب انسانی معاشرہ ہی تباہی کے دہانے پر چلا جائے گا اور دیگر مسائل میں انسانی زندگی گرفتار ہو جائے گی تو اس کافائدہ ہی کیاہے۔اس لئے حکومت کو بھی کل کارخانے لگاتے وقت اس حقیقت کو سامنے ضرور رکھنا چاہئے کہ ندی،پہاڑ اور جنگل کے بغیر انسانی معاشرہ کا تحفظ نا ممکن ہے۔