ریپوریٹ میں اضافہ کا خدشہ ، قرض مہنگا ہوگا

Updated: September 20, 2022, 12:56 PM IST | Agency | New Delhi

مورگن اسٹینلی کی پیشین گوئی، کہا کہ ریزروبینک آف انڈیا( آر بی آئی) ریپو ریٹ میں۰ء۵۰؍ فیصد کا اضافہ کرے گا،ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے درمیان حالات مزید خراب ہونے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں

If the RBI hikes the rate again this time, it will be the fourth time in a row .Picture:INN
اگرآربی آئی ریپوریٹ میں اس بار بھی اضافہ کرتا ہے تو یہ مسلسل چوتھی بار ہوگا۔ تصویر:آئی این این

 ملٹی نیشنل انویسٹمنٹ مینجمنٹ اور فائنانشیل سروسیز کمپنی مارگن اسٹینلی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شرح مہنگائی میں تیزی اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے رخ کے بعد ہمارا اندازہ ہے کہ ریپو ریٹ میں۰ء۵۰؍  فیصد کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے درمیان حالات مزید خراب ہونے کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ آر بی آئی کی ۳؍ روزہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی میٹنگ۲۸؍ ستمبر سے لے کر۳۰؍ ستمبر۲۰۲۲ء تک ہونے والی ہے جس پر سبھی کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ اگست ماہ میں خردہ شرح مہنگائی کے پھر سے۷؍ فیصد کی سطح پر پہنچنے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آر بی آئی لگاتار چوتھی بار پالیسی میٹنگ میں ریپو ریٹ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ گلوبل انویسٹمنٹ  اینڈ فائنانشیل فرم مارگن اسٹینلی کا ماننا ہے کہ آر بی آئی ریپو ریٹ میں۰ء۵۰؍  فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔ مارگن اسٹینلی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پہلے ہمارا اندازہ تھا کہ ریپو ریٹ میں۳۵؍ بیسس پوائنٹ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن شرح مہنگائی میں تیزی اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے رخ کے بعد ہمارا اندازہ ہے کہ ریپو ریٹ میں۰ء۵۰؍  فیصد کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل آر بی آئی ریپو ریٹ میں۱ء۴۰؍  فیصد کا اضفاہ کر چکا ہے۔ پہلی بار آر بی آئی نے مئی۲۰۲۲ء  میں۴۰؍  بیسس پوائنٹ، دوسری بار جون میں۵۰؍  بیسس پوائنٹ، اور پھر اگست میں۰ء۵۰؍  فیصد کا اضافہ ریپو ریٹ میں کر چکا ہے۔ اور اب ایک بار پھر ریپو ریٹ میں اضافہ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مارگن اسٹینلی کے مطابق مہنگی خوردنی اشیاء کے سبب ستمبر ماہ میں بھی خردہ مہنگائی شرح۷ء۱؍  سے۷ء۴؍  فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔ حالانکہ اس کے بعد جنوری-فروری تک شرح مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے اور یہ جنوری-فروری۲۰۲۳ء تک۶؍فیصد کے اوپر رہ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خوردنی اشیاء کی شرح مہنگائی میں اضافہ کے سبب شرح مہنگائی میں تیزی بنی رہ سکتی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے دھان اور دال کی بوائی گھٹی ہے، تو کموڈیٹی کی قیمتوں میں تیزی اور ڈالر کے مقابلے روپے میں کمزوری سے درآمداتی مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ جس کے سبب خردہ مہنگائی کی شرح بڑھی رہ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK