• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ ریبیز‘ کا خوف جان لیوا ثابت ہوا، نوجوان نے خودکشی کرلی

Updated: February 24, 2026, 2:01 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

اہل خانہ نے بتایا کہ آیُش وشوناتھ کتے کے کاٹنے کے بعد سے خوف اور تشویش کا شکار تھا۔

Ayush Vishwanath Amin.Photo:INN
آیوش وشوناتھ امین۔ تصویر:آئی این این
یہاں ایک آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز کے خوف میں مبتلا ۳۰ ؍سالہ نوجوان نے شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کے عالم میں پھانسی لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔بتایا جاتا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے واقعے کے بعد نوجوان مسلسل خوف اور تشویش کا شکار تھا۔ریبیز سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں اور ذہنی دباؤ نے اس کی کیفیت کو مزید بگاڑ دیا یہاں تک کہ اس نے انتہائی قدم اٹھا لیا۔اس سانحہ نے نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کلیان مشرق کے تیس گاؤں ناکہ علاقے میں واقع سہ جیون سوسائٹی میں رہنے والے آیُش وشوناتھ امین گزشتہ ۸؍ برسوں سے تھانے کی بھارت بینک شاخ میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ چند روز قبل علاقے میں گھومنے والے ایک آوارہ کتے نے ان کے پیر پر کاٹ لیا تھا۔ آیُش نے طبی مشورے کے برعکس صرف ایک انجکشن لگوایا اور کورس مکمل نہیں کیا۔
 
 
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ۴؍ دنوں سے آیُش کی حرکات و سکنات میں غیر معمولی تبدیلی آ گئی تھی اور وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار نظر آ رہا تھا۔ گزشتہ روز جب گھر میں کوئی موجود نہیں تھا  تواس نے ایک خودکشی نوٹ تحریر کیا اور پنکھے سے لٹک کر اپنی جان دے دی۔
 
 
کولسے واڑی پولیس اسٹیشن کے حکام نےموقع پر پہنچ کر لاش کوتحویل میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کتا کاٹنے کے بعد اینٹی ریبیز ویکسین  کا مکمل کورس کرنا لازمی ہے محض ایک یا ۲؍ انجکشن کافی نہیں ہوتے۔ ریبیز ایک خطرناک بیماری ضرور ہے لیکن بروقت علاج سے اس سے سو فیصد بچا جا سکتا ہے۔ مریض کو وہم یا خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر اور ماہر نفسیات سے رجوع  ہوناچاہیے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK