• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ پر ٹیرف سے وصول کی گئی رقم واپس کرنے کا دباؤ

Updated: February 24, 2026, 3:58 PM IST | New York

کیا ٹرمپ انتظامیہ کو ٹیرف سے وصول کیے گئے ۱۷۵؍ ارب ڈالر واپس کرنے پڑ سکتے ہیں؟ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے نیا بل پیش کیا ہے، جس میں چھوٹے کاروباروں کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔ کیا یہ تجویز قانون بن پائے گی اور کن کاروباروں کو اس کا براہِ راست فائدہ ملے گا؟

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

کیا ٹرمپ انتظامیہ کو اب ٹیرف سے وصول کی گئی رقم واپس کرنا پڑے گی؟ امریکی سپریم کورٹ کے ٹرمپ ٹیرف کو کالعدم قرار دینے کے اہم فیصلے کے بعد یہ سوال امریکی سیاست کا مرکزی موضوع بن گیا ہے۔ ڈیموکریٹک لیڈروں نے ایک ایسا بل پیش کیا ہے جو منظور ہونے کی صورت میں ہزاروں کاروباری اداروں کو  راحت  دے سکتا ہے۔ امریکی سینیٹ کے  ۲۲؍ڈیموکریٹک سینیٹرز نے پیرکو ایک بل پیش کیا ہے۔ اس تجویز کے تحت اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کو عدالت غیر قانونی قرار دیتی ہے تو وصول کی گئی پوری رقم ۱۸۰؍ دن کے اندر سود سمیت واپس کی جائے گی۔ یہ رقم ان کمپنیوں اور تاجروں کو لوٹائی جائے گی جنہوں نے درآمدات کے دوران یہ محصولات ادا کیے تھے۔
امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو  ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت عائد کیے گئے وسیع ٹیرف کو مسترد کر دیا تھا۔ تاہم عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ پہلے سے وصول کی گئی رقم کا کیا ہوگا، بلکہ اس معاملے کو مزید کارروائی کے لیے نچلی تجارتی عدالت کو بھیج دیا۔
اسی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اس قانون کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے مطابق کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی ) کو تمام آئی ای ای پی اے  کی بنیاد پر عائد کیے گئے ان ٹیرف کی رقم واپس کرنا ہوگی جنہیں غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں وہ محصولات بھی شامل ہوں گے جنہیں پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ ادائیگی میں چھوٹے کاروباروں کو ترجیح دی جائے گی۔
اس بل کی حمایت کرنے والوں میں سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر، اوریگون کے سینیٹر رون وائیڈن، میساچوسٹس کے ایڈورڈ مارکی اور نیو ہیمپشائر کی جین شاہین شامل ہیں۔ یہ تمام سینیٹ کی فنانس، اسمال بزنس اور خارجہ تعلقات کمیٹیوں میں سرفہرست ڈیموکریٹک اراکین ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کانتارا تنازع: ’’رنویر سنگھ جاؤ، تفتیش میں تعاون کرو‘‘

رون وائیڈن نے کہا کہ ڈیموکریٹک سینیٹرز ٹرمپ کی مہنگائی میں اضافے کا سبب بننے والی تجارتی اور معاشی پالیسیوں کو روکنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق سب سے اہم قدم یہ ہے کہ چھوٹے کاروباروں اور مینوفیکچررز کو جلد از جلد ان کی رقم واپس دلائی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:ویسٹ انڈیز نے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کی تاریخ میں اپنا سب سے بڑا اسکور بنا لیا


۱۷۵؍ ارب ڈالر پر فیصلہ معلق
روئٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تقریباً ۱۷۵؍ ارب ڈالر کی آئی ای ای پی اے   پر مبنی ٹیرف وصولی ممکنہ طور پر ریفنڈ کے دائرے میں آ سکتی ہے۔ پین-وارٹن بجٹ ماڈل کے ماہرینِ معاشیات کے اندازے کے مطابق یہ ٹیرف روزانہ ۵۰؍ کروڑ ڈالر سے زیادہ کی مجموعی آمدنی پیدا کر رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK