Inquilab Logo

مراٹھا اور او بی سی سماج کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی کا خدشہ

Updated: June 19, 2024, 12:28 AM IST | Jalna

چھگن بھجبل کے بعد پنکجا منڈے بھی میدان میں، کہا’ حکومت سمجھائے کہ مراٹھا ریزویشن سے او بی سی کوٹے کو نقصان کیسے نہیں پہنچےگا؟‘ بھجبل نے کہاکہ’’ او بی سی سماج کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو میں خود احتجاج کروں گا‘‘ منوج جرنگے نے کہا ’’ ہم او بی سی زمرے میں ریزرویشن لے کر رہیںگے۔ اس کے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ مراٹھا سماجی کارکن نے ایک بار پھر ’ دھنگر، مراٹھا، دلت اور مسلم سماج کو متحد کرکے اقتدار حاصل کرنے کی بات دہرائی

Pankaja Munde has also announced his support for the OBC protest
پنکجا منڈے نے بھی او بی سی احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے

 ریاست میں ایک بار پھر مرٹھا اور او بی سی سماج کے درمیان ریزرویشن کے نام پر کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ مراٹھا ریزرویشن کی مخالفت میں چھگن بھجبل کے بعد بی جے پی کی خاتون لیڈر پنکجا منڈے بھی میدان میں اتر آئی ہیں۔  انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مراٹھا سماج کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر یعنی انہیں او بی سی زمرے میں ریزرو یشن دینے پر او بی سی ریزرو یشن کوئی نقصان کیسے نہیں پہنچے گا یہ سمجھایا جائے۔ 
 یاد رہے کہ الیکشن کے بعد مراٹھا کارکن منوج جرنگے نے جالنہ میں دوبارہ بھوک ہڑتال کی تھی۔ حکومت نے وفد کو بھیج کر انہیں  یقین دلایا کہ وہ مراٹھا ریزرویشن کے نفاذ پر کام کر رہی ہے۔ جرنگے نے حکومت کو ایک ماہ کی مہلت دی اور بھوک ہڑتال ملتوی کردی۔ اس دوران او بی سی  کارکن لکشمن ہاکے نے بھی  مراٹھا سماج کو او بی سی زمرے میں شامل کرنے کے خلاف بھوک ہڑتال کی لیکن اب تک حکومت کا کوئی وفد ان سے ملنے نہیں گیا جس پر چھگن بھجبل  اور پنکجا منڈے سمیت کئی او بی سی س لیڈران ناراض ہیں۔  پنکجا منڈے نے ایک روز قبل لکشمن ہاکے سے ملاقات کی۔  ان کے ساتھ ان کے بھائی دھننجے منڈے بھی تھے جو این سی پی (اجیت) میں ہیں۔   پنکجا نے کہا ’’ احتجاج کرنے کا حق ہر کسی کو  ہے۔ ہمار ے اس بھائی ( لکشمن ہاکے) نے بھی بھوک ہڑتال کی ہے۔ یہاں بھی بڑے بڑے لیڈران کو آنا چاہئے۔  یہ کیا کہہ رہے ہیں اسے سننا چاہئے۔‘‘ پنکجا نے کہا ’’ میرا وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویند ر فرنویس سے مطالبہ ہے کہ وہ او بی سی سماج کو یہ سمجھائیں کہ مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیا گیا تو او بی سی کوٹے کا نقصان کس طرح نہیں ہوگا؟‘‘  انہوں نے کہا ’’ اگر کہیں غیر قانونی طریقے سے  ( مراٹھا سماج کو) او بی سی سرٹیفکیٹ دیا جا رہا ہو تو  اس پر قرطاس ابیض جاری کرکے  اس معاملے کو حل کیا جائے۔ ‘‘ 
  ادھر  این سی پی ( اجیت) کے سینئر لیڈر چھگن بھجبل نے  اس بات کو دہرایا ہے کہ مراٹھا سماج کو او بی سی زمرے میں ریزرویشن نہیں ملے سکتا۔ ممبئی میں ایک میٹنگ کےدوران بھجبل نے کہا ’’  مراٹھا سماج کو او بی سی زمرے میں ریزرویشن نہیں مل سکتا یہ ایک حقیقت ہے۔  اگر او بی سی سماج کے ساتھ نا انصافی کی گئی تو میں بھی او بی سی کارکنان کے احتجاج میں شامل ہو جائوں گا۔ ‘‘  انہوں نے کہا ’’مختلف مقامات پر او بی سی سماج کے لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان علاقوں سے کئی لوگ مجھ سے ملنے آئے تھے۔ تفصیلی گفتگو کے بعد ہم اس  نتیجے پر پہنچے کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے ذریعے ہی یہ مسئل حل ہو سکتا ہے۔  اس مردم شماری سے واضح ہو جائے گاکہ کون کون سی ذاتیں او بی سی میں شامل ہیں۔ ‘‘ بھجبل نے کہا ’’ ایک بار پھر مرکز میں مودی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ اب ذات پات پر مبنی مردم شماری ہو جانی چاہئے۔ ‘‘ انہوں نے انتباہ دیا کہ ’’اگر او بی سی سماج کےخلاف کوئی اقدام کیا گیا میں او بی سی سماج کے ساتھ رہوں گا۔ ‘‘ 

 ایک طرف او بی سی سماج کے کارکن اس بات پر زور لگا رہے ہیں کہ مراٹھا سماج کو  او بی سی زمرے میں ریزرویشن نہ دیا جائے کیونکہ وہ  ان کا شمار او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات ) میں نہیں ہوتا تو دوسری طرف مراٹھا تحریک کے روح رواں منوج جرنگے اس بات پر قائم ہیں کہ مراٹھا سماج او بی سی زمرے میں ریزرویشن لے کر رہے گا۔   جرنگے نے لوک سبھا الیکشن سے قبل ہونے والی ۲؍ مختلف بھوک ہڑتالوں میں یہی موقف اختیار کیا تھا اور اس بار بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ 
  ایک ٹی چینل کے دیئے گئے انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ’’ مراٹھا سماج کو ریزرویشن ملنے پر او بی سی سماج کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ وہ ( ریزرویشن کے مخالفین) پاگل ہو گئے ہیں۔ کچھ دنوں میں انہیں بیل کا انجکشن لگانا ہوگا۔ ‘‘ جرنگے نے کہا ’’ او بی سی کو سب سے زیادہ نقصان انہی لیڈران نے پہنچایا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے جب مراٹھا اور دھنگر سماج کو متحد ہوجانا چائے۔  اور ریزرویشن حاصل کر لینا چاہئے۔‘‘   یاد رہے کہ مراٹھا ریزرویشن کی سب سے زیادہ مخالفت او بی سی سماج اور دھنگر سماج کی طرف سے ہو رہی ہے۔ بلکہ اس معاملے میں او بی سی لیڈران اور دھنگر لیڈران متحد ہو چکے ہیں۔   اس پر منوج جرنگے نے کہا ’’ ہمیں ( مراٹھا اور دھنگر سماج کو)  ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔دھنگر، مراٹھا، مسلم اور دلت سماج متحد ہوجائیں تو پورا اقتدار چھین سکتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ آپ ہمیں ریزرویشن دیں یا نہ دیں ہم او بی سی زمرے میں ریزرویشن لے کر رہیں گے۔ اس کے بغیر اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔  مراٹھا اور کنبی ایک ہی ہے۔ ہمارے پاس اسکے ثبوت موجود ہیں۔ اس معاملے پر دماغ لگائیے اور اقتدار حاصل کیجئے۔‘‘ 
  اس جانب توجہ دلائے جانے پر کہ چھگن بھجبل   نے کہا ہے کہ مراٹھا سماج کو کسی قیمت پر او بی سی زمرے میں  ریزرویشن نہیں مل سکتا، مراٹھا کارکن نےکہا’’ چھگن بھجبل کو ایک آئینی عہدے پر رہتے ہوئے بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ وہ اپنے مفاد کی خاطر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ‘‘ جرنگے کے مطابق ’’ میں نے حیدر آباد سے گزٹ منگوایا ہے۔ ۱۸۸۴ء کی مردم شماری  ہے کا اصل پرنٹ میرے پاس ہے جس میں سارا ریکارڈ موجود ہے۔ اس میں پورے مراٹھا سماج کو کنبی کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ زمین کے اندراجات ۳۷؍ نمبر پر ہے کیا یہ سب کچھ جعلی ہے ؟‘‘  لیکن سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مراٹھا سماج کو ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا؟ اس سوال پر منوج جرنگے نےکہا ’’  عدالت نے ۵۰؍ فیصد سے زائد ریزرویشن کے کوٹے کو مسترد کیا ہے۔ ہم ۵۰؍ فیصد کے اندر ہی آتے ہیں۔ ہمارا شمار او بی سی سماج میں ہوتا ہے اسلئے یہ کہہ کر عوام کو گمراہ نہ کیا جائے کہ عدالت نے مراٹھا سماج کو ریزرویشن دینے سےانکار کیا ہے۔‘‘ جرنگے نے ۱۳؍ جولائی تک کوئی فیصلہ نہ ہونے پر انتہائی سخت احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK