ہندوستانی حکومت نے بجلی کے شعبے میں کوئلے کی کمی کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی گھروں کو کوئلے کی سپلائی میں بہتری آئی ہے اور فوری طور پر بجلی کی پیداوار بند ہونے کا خطرہ ظاہر کرنا درست نہیں۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi
ہندوستانی حکومت نے بجلی کے شعبے میں کوئلے کی کمی کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی گھروں کو کوئلے کی سپلائی میں بہتری آئی ہے اور فوری طور پر بجلی کی پیداوار بند ہونے کا خطرہ ظاہر کرنا درست نہیں۔
ہندوستانی حکومت نے بجلی کے شعبے میں کوئلے کی کمی کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی گھروں کو کوئلے کی سپلائی میں بہتری آئی ہے اور فوری طور پر بجلی کی پیداوار بند ہونے کا خطرہ ظاہر کرنا درست نہیں۔ وزارتِ کوئلہ کے مطابق ستمبر میں کم ترین سطح کے مقابلے اکتوبر میں بجلی گھروں کو کوئلے کی یومیہ سپلائی میں تقریباً ۳۶؍ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اکتوبر کے دوران اوسط سپلائی ستمبر کے مقابلے میں تقریباً ۹؍ فیصد زیادہ رہی ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ بعض بجلی گھروں میں کوئلے کے ذخائر مقررہ معیار سے کم ہونے پر انہیں ’’نازک ذخیرے‘‘ (Critical Stock) کے زمرے میں رکھا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے پاس کوئلہ ختم ہوچکا ہے یا بجلی کی پیداوار فوری طور پر بند ہونے والی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے’’کون بنے گا کروڑ پتی ۱۸ ‘‘ میں نانا پاٹیکر کو جذباتی خراجِ عقیدت پیش کیا
وزارتِ کوئلہ کے مطابق ستمبر میں بجلی گھروں کے کوئلے کے ذخائر میں روزانہ اوسط کمی تقریباً ۲؍ لاکھ ۴۳؍ ہزار ٹن تھی، جو اکتوبر میں گھٹ کر ایک لاکھ ۱۶؍ ہزار ٹن یومیہ رہ گئی ہے۔ اس طرح ذخائر میں کمی کی رفتار نصف سے بھی زیادہ کم ہوئی ہے۔ تاہم، وزارت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ذخائر میں کمی کی رفتار سست ہونے کے باوجود ان کی دوبارہ بھرپائی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔کوئلے کی ترسیل کے لیے ریلوے انتظامات میں بہتری کو بھی حکومت نے اہم قرار دیا ہے۔ اکتوبر میں کوئلے کی نقل و حمل کے لیے روزانہ اوسطاً ۴۶۵؍ سے زیادہ ریک استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ تین مسلسل دنوں میں روزانہ ۴۷۰؍ ریک کا ہدف بھی حاصل کیا گیا۔ سڑکوں اور نقل و حمل کے دیگر ذرائع سے کوئلے کی سپلائی میں بھی بہتری آئی ہے۔ وزارت کے مطابق وہ وزارتِ ریلوے اور وزارتِ بجلی کے ساتھ مل کر کوئلے کی دستیابی اور ترسیل کی مسلسل نگرانی کررہی ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق کم ذخائر والے بجلی گھروں تک کوئلہ پہنچانے کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک کے کئی حصوں میں بجلی کی طلب اور سپلائی کے درمیان دباؤ کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ کم بارش کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں کمی، کوئلے سے چلنے والے بعض بجلی گھروں کی دیکھ بھال اور صنعتی شعبے میں بجلی کی مسلسل طلب نے صورتحال کو پیچیدہ بنایا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بعض ریاستوں نے رات کے اوقات میں بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مرکز سے اضافی بجلی بھی طلب کی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے کوئلے کی سپلائی بہتر بنانے اور ذخائر کی نگرانی پر زور دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز: پاکستان چیمپئن کے متبادل ٹیم کا اعلان
وزارتِ کوئلہ کو توقع ہے کہ مون سون کے اختتام اور اکتوبر کے وسط تک بجلی کی طلب میں معمول کی کمی کے ساتھ کوئلے کی ترسیل میں مسلسل بہتری ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔ وزارت کے مطابق روزانہ ۴۶۵؍سے ۴۷۵؍ ریک کی سطح پر کوئلے کی ترسیل برقرار رہنے سے تہواروں کے موسم، سردیوں اور آئندہ گرمیوں سے پہلے ذخائر دوبارہ بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، چونکہ ذخائر کی بحالی ابھی شروع نہیں ہوئی، اس لیے حکومت کوئلے کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
مجموعی طور پر، حکومت نے فوری طور پر کوئلہ ختم ہونے یا بجلی گھروں کے بند ہونے کے خدشات کو مسترد کیا ہے، لیکن ذخائر میں کمی اور بعض علاقوں میں بجلی کی قلت کے دباؤ کو نظرانداز نہیں کیا۔ کوئلے کی سپلائی میں اضافہ اور ریلوے کے ذریعے ترسیل میں بہتری مثبت پیش رفت ہے، جبکہ ذخائر کی دوبارہ بھرپائی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی آنے والے دنوں میں اہم رہیں گی۔