• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۹؍ روزہ ہڑتال کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخاب کا اعلان، پروکٹر مستعفی

Updated: October 09, 2026, 10:05 PM IST | Aligarh

۱۹؍ روزہ بھوک ہڑتال کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کا اعلان کردیا گیا ساتھ ہی پروکٹر مستعفی ہو گئے، طلبہ کا کہنا ہے کہ سال ۲۰۱۸ء سے یونیورسٹی میں یونین موجود نہیں تھی جس کے سبب طلبہ کے مسائل نظر انداز کئے جاتے تھے ، طلبہ کے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے یونین انتخابات کا اعلان کر دیا ہے اورطلبہ کے دیگر مطالبات بھی پورے کر دیئے ہیں۔

Yasir Fahad ending his hunger strike after his demands were accepted. Photo: X
مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد یاسر فہد کی بھوک ہڑتال ختم کراتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) میں کیمپس جمہوریت کی بحالی اور اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے انعقاد کیلئے طلبہ لیڈریاسر فہد کی بھوک ہڑتال کے ۱۹؍ ویں روز یونیورسٹی انتظامیہ نے بالآخر ۵؍ نومبر کو یونین الیکشن کروانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یونیورسٹی نے کارروائی کرتے ہوئے پروفیسر محمد نوید خان کو پروکٹر کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ شعبہ سیاسیات کے پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کو فوری طور پر نیا پروکٹر مقرر کر دیا ہے۔ ۱۹؍ دنوں سے جاری اس تاریخی بھوک ہڑتال اور احتجاج کی کامیابی پر طلباء نے یونین ہال پہنچ کر فتح کا جشن منایا اور کہا کہ انتظامیہ نے پروکٹر کے استعفے اور الیکشن کے انعقاد سمیت ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے قبل ملک بھر میں کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد حراست میں: سی جے پی

چیف الیکشن آفیسر کے دفتر سے ۹؍ اکتوبر کو جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق، ۵؍نومبر کو صبح ۹؍ بجے سے شام ۵؍ بجے تک تمام متعلقہ فیکلٹیز میں ووٹنگ ہوگی، جبکہ دوپہر ۱؍ سے ۲؍ بجے کے درمیان دوپہر کے کھانے کا وقفہ رہے گا۔ اسی دن شام ۷؍ بجے سے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگا اور نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ شیڈول کے تحت ۲۶؍ اکتوبر کو صبح ۱۰؍ بجے متعلقہ ڈیپو کی جانب سے ابتدائی ووٹر لسٹیں آویزاں کی جائیں گی، جس میں ۲۷؍ اکتوبر کی دوپہر ۲؍ بجے تک تصحیح کرائی جا سکے گی اور اسی دن شام ۴؍ بجے حتمی ووٹر لسٹ جاری کر دی جائے گی۔ امیدوار ۲۹؍  اکتوبر کو صبح ۱۰؍ بجے سے اے ایم یو ایس یو دفتر میں اپنے نامزدگی کاغذات جمع کرا سکیں گے اور ۳۰؍ اکتوبر کو صبح ۱۰؍ سے دوپہر ۱؍  بجے کے درمیان اپنے نامزدگی کاغذات واپس لے سکیں گے، جس کے بعد۳۰؍ اکتوبر کو ہی شام ۴؍ بجے صحیح امیدواروں کی فہرست جاری کی جائے گی۔ ۳۱؍ اکتوبر کو صبح ۱۰؍ بجے امیدواروں کو سیریل نمبر الاٹ کئے جائیں گے اور شام ۴؍ بجے سیریل نمبر کے ساتھ حتمی فہرست شائع ہوگی۔ الیکشن سے قبل ۳؍ نومبر کی دوپہر ۲؍ بجے یونین ہال کی چھت سے امیدواروں کی روایتی فائنل تقاریر ہوں گی۔ یہ پورا انتخابی عمل ۲۰۱۹ء کے ترمیم شدہ قوانین کے تحت انجام پائے گا۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ڈک پوائنٹ پر مسلسل جاری رہنے والے احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے، جسے طلبہ نے ’’منی جنتر منتر‘‘ کا نام دے رکھا تھا۔ طلبہ نے پچھلے تقریباً آٹھ سالوں سے منتخب یونین کی عدم موجودگی کی طرف توجہ مبذول کرانے کیلئے میمز، ریلز، طنزیہ نعروں اور دلچسپ پلے کارڈز کا استعمال کیا۔ اس تحریک میں طالبات کی بھی بھرپور اور نمایاں شمولیت دیکھنے میں آئی، جنہوں نے مرکزی احتجاجی مقام کے ساتھ ساتھ مختلف ہاسٹلوں میں بھی مظاہرے کئے ۔ ۹؍ اکتوبر کو ہی جاری ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے اے ایم یو انتظامیہ نے وومنس کالج کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر نازیہ حسن کو تعلیمی سیشن۲۰۲۶-۲۷ء کیلئے  وومنس کالج انڈرگریجویٹ اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کیلئے چیف الیکشن آفیسر مقرر کیا ہے، جو ترمیم شدہ ۲۰۱۹ء کے قوانین کی دفعہ ۱۵؍ کے تحت یہ الیکشن کروائیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: کل کے احتجاج کو روکنے کیلئے دہلی چھاؤنی میں تبدیل

ذہن نشین رہے  کہ اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات سال ۲۰۱۸ء کے بعد سے نہیں ہوئے تھے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یونین نہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس تعلیمی مسائل، ہاسٹل کی سہولیات، کھانے کی معیار، صفائی اور کیمپس کی زندگی سے جڑے دیگر امور پر آواز اٹھانے کیلئے کوئی منتخب پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ یاسر فہد نے ۲۱؍ ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ اگر انتظامیہ نے الیکشن کا مطالبہ نہ مانا تو وہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ پچھلے سال بھی طلبہ نے الیکشن کرانے کی یقین دہانی پر اپنا احتجاج ختم کیا تھا، لیکن وعدہ پورا نہ ہونے پر اس سال احتجاج کو دوبارہ شروع کرنا پڑا۔ دوسری جانب، وائس چانسلر نے ایک الگ آفس میمو کے ذریعے پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کو دو سال کی مدت یا اگلے احکامات تک کیلئے پروکٹر مقرر کیا ہے، جو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ فوری طور پر پروکٹر کا اضافی عہدہ سنبھالیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK