• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حجاب کے سبب ایراسمس ویزا درخواست مسترد: گلاتاسرائے یونیورسٹی کی طالبہ

Updated: October 09, 2026, 10:05 PM IST | Ankara

گلاتاسرائے یونیورسٹی کی طالبہ کا کہنا ہے کہ حجاب کے سبب ایراسمس ویزا درخواست مسترد ہو گئی ،ناکام کوششوں کے بعد، طالبہ کا کہنا ہے کہ اسے دستخط شدہ دستاویز ملےجس میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی ویزا درخواست کے لیےبلا حجاب فوٹو درکار ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

استنبول کی گلاتاسرائے یونیورسٹی کی ایک طالبہ جسے فرانس کی سوربون یونیورسٹی میں ایراسمس ایکسچینج پروگرام کے لیے قبول کیا گیا تھا، نے کہا کہ اس کی طویل قیام کی اسٹوڈنٹ ویزا درخواست قبول نہیں کی گئی کیونکہ اس کی بائیو میٹرک تصویر میں اس نے حجاب پہن رکھا تھا۔طالبہ، جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے انادولو کو بتایا کہ اس سے سر ننگا فوٹو فراہم کرنے کو کہا گیا اور تین الگ ویزا درخواستیں ناکام ہوئیں۔اس نے کہا کہ اسی عرصے میں حجاب پہننے والی دیگر طالبات کو فرانسیسی ویزے ملے تھے، اور دلیل دی کہ اس کے ساتھ متضاد سلوک کیا گیا۔اس نے کہا، ’’میرے دوست ہیں جنہوں نے اسی عرصے میں ویزے حاصل کیے۔ انہوں نے حجاب پہنے ہوئے فوٹو جمع کرائے۔ مجھے بتایا گیا کہ میری تصویر حجاب کی وجہ سے قبول نہیں کی گئی۔ اس میں تضاد ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل مسلسل ۴۶؍ دنوں سے اسرائیل کی قیدمیں: رپورٹ

واضح رہے کہ طالبہ، جس نے سوربون یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور ایراسمس فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے کوالیفائی کیا تھا، نے کہا کہ اس نے ترکی میں فرانس کے مجاز ویزا سروس فراہم کنندہ VFS Global کے ذریعے تین بار درخواست دی۔اس نے کہا کہ اس کی پہلی درخواست فرانس میں اس کے قیام کے بارے میں شکوک و شبہات کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی تھی، حالانکہ اس نے دستاویزات جمع کرائی تھیں جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایراسمس کے تحت اس کی رہائش اور تعلیمی پروگرام کا انتظام کیا گیا تھا۔اس نے دوسری بار ایک دوست کے ساتھ درخواست دی، جس کی درخواست منظور ہو گئی جبکہ اس کی دوبارہ مسترد کر دی گئی۔طالبہ نے کہا کہ اسے شبہ ہے کہ اس کا حجاب اس کی وجہ ہے اور اس نے تیسری درخواست جمع کرائی کیونکہ وہ فیصلے کی وجوہات کا تحریری ثبوت چاہتی تھی۔بعد ازاں طالبہ نے کہا کہ ،’’میں نے خط و کتابت اور دیگر ذرائع سے اس عمل کی پیروی کی، اور آخر کار انہیں مجھے ایک دستخط شدہ دستاویز دینی پڑی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ننگے سر تصویر چاہتے ہیں۔‘‘
طالبہ کے مطابق ایک تعلیمی موقع جو میں نے کمایا تھا چھین لیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ سوربون میں تعلیم حاصل کرنا اس کے تعلیمی کیریئر کے لیے ایک اہم موقع ہوتا اور اسے کھونے سے اس پر گہرا اثر پڑا ہے۔اس نے کہا کہ براہ راست حجاب ہٹانے کے لیے کہے جانے سے اسے اپنے مذہبی عمل اور تعلیمی موقع کے درمیان انتخاب کرنے پر بے بسی محسوس ہوئی۔اس نے کہا، ’’میرا حجاب اتارنا میرے لیے ممکن نہیں ہے، لیکن میرے سامنے والا شخص مجھ سے اس کی توقع رکھتا ہے۔ آپ دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔آپ کو اس بات پر بھی غصہ آتا ہے کہ آپ کے سامنے والا شخص آپ سے ایسی چیز مانگنے کی ہمت کرتا ہے۔‘‘بعد ازاں طالبہ نے کہا کہ اس نے اپنا تجربہ عوامی طور پر سوشل میڈیا پر حمایت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسرے طلبہ کو آگاہ کرنے کے لیے شیئر کیا کہ انہیں کس چیز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور حکام کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرائی جائے۔اس نے کہا، ’’یہاں ایک کامیابی ہے۔ میں اپنی کامیابی پر شرمندہ نہیں ہونے والی۔ نہ ہی میں اپنی کامیابی کو چھپانے والی ہوں کیونکہ میں حجاب پہنتی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس: عدالت نے مسلم طلبہ کے زیر تعلیم اسکول پر ۶؍ ماہ کی پابندی برقرار رکھی

واضح رہے کہ گلاتاسرائے یونیورسٹی اور دیگر فرانسیسی زبان کی یونیورسٹیوں میں حجاب پہننے والی بہت سی طالبات ہیں۔ ہماری تعلیم کی زبان۱۰۰؍ فیصد فرانسیسی ہے۔ قدرتی طور پر، ہم فرانس کی یونیورسٹیوں میں جانا چاہتے ہیں۔ اگر میں نے سوربون میں جگہ حاصل کی ہے، تو مجھے دوسرے ملک کیوں جانا چاہیے؟تین ناکام درخواستوں کے بعد، طالبہ نے کہا کہ وہ دوبارہ درخواست دینے کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن چاہتی ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے طلبہ کے لیے یہ مسئلہ حل ہو جائے۔اس نے کہا، ’’اگر کوئی قاعدہ ہے تو حکام کو اسے واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں کس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیںویزا سینٹر کے عملے کو بھی بتایا جانا چاہیے کہ طلبہ کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔ ہمیں کسی انفرادی ملازم کے من مانے رویے کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK