Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا

Updated: May 10, 2026, 10:13 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صموڈ فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا، برازیلی شہری تھیاگو ایویلا اور فلسطینی نژاد ہسپانوی کارکن سیف ابو کشک اس دوسرے گلوبل سموڈ فلوٹیلا کا حصہ تھے جو۱۲؍ اپریل کو اسپین سے روانہ ہوا تھا تاکہ غزہ میں امداد پہنچا کر اسرائیل کی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی جا سکے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیل نے دو کارکنوںبرازیلی شہری تھیاگو ایویلا اور فلسطینی نژاد ہسپانوی کارکن سیف ابو کشک کو رہا کر دیا ہے، جنھیں بین الاقوامی پانیوں میں غزہ جانے والے فلوٹیلا سے غیرقانونی طور پر اغوا کیا گیا تھا۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے اتوار کو ان کی رہائی کی تصدیق کی۔واضح رہے کہ یہ کارکن دوسرے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جو  ۱۲؍پریل کو اسپین سے روانہ ہوا تھا تاکہ غزہ میں امداد پہنچا کر اسرائیل کی ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔بعد ازاں انھیں ۲۹؍ اپریل کو اسرائیلی حکام نے غیرقانونی طور پر حراست میں لیا تھا اور اسرائیل لایا گیا تھا۔جبکہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ابو کشک پر ’’ایک دہشت گرد تنظیم‘‘ سے وابستگی کا شبہ تھا اور ایویلا پر ’’غیرقانونی سرگرمی‘‘ میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ حالانکہ دونوں نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ وہ غزہ کی شہری آبادی کے لیے انسانی مشن پر تھے اور بین الاقوامی پانیوں میں ان کی گرفتاری غیرقانونی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مہینوں جاری رہے، تب بھی ایران کو فرق نہیں پڑے گا: سی آئی اے رپورٹ

دوسری جانب اسپین، برازیل اور اقوام متحدہ نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔بدھ کو ایک اسرائیلی عدالت نے ان کی حراست کے خلاف اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد ان کی نمائندگی کرنے والے حقوقِ انسانی گروپ نے اس فیصلے کو ’’غیرقانونی‘‘ قرار دیا۔ذہن نشین رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کا پہلا سفر بھی گزشتہ سال مصر اور غزہ کے ساحلوں پر اسرائیلی افواج نے روک دیا تھا۔یاد رہے کہ اسرائیل غزہ میں داخلے کے تمام راستوں پر قابض ہے، جو۲۰۰۷ء سے اسرائیلی ناکہ بندی کے تحت ہے۔اکتوبر۲۰۲۳ء میں شروع ہونے والی غزہ پر اسرائیلی نسل کش جنگ کے دوران، علاقے میں ضروری اشیاء کی شدید قلت ہے اور اسرائیل نے کئی بار امداد کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK