Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ایم سی جی کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کی تیاری میں

Updated: May 10, 2026, 10:15 PM IST | New Delhi

کمپنیاں لاگت کم کرنے کے لیے رعایتوں اور تشہیری اخراجات میں کمی، انوینٹری مینجمنٹ کو مضبوط بنانے اور سپلائی چین کو زیادہ مؤثر بنانے جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود بڑھتی ہوئی لاگت کا کچھ بوجھ صارفین پر پڑنے کا امکان ہے۔

FMCG.Photo:INN
ایف ایم سی جی۔ تصویر:آئی این این

خام تیل سے جڑی مہنگائی، پیکیجنگ میٹریل اور ایندھن کی لاگت میں اضافے کے باعث صابن، ڈٹرجنٹ، بسکٹ، پیک شدہ غذائی اشیاء اور مشروبات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی لاگت سے روزمرہ استعمال کی اشیاء بنانے والی ملک کی بڑی کمپنیوں (ایف ایم سی جی کمپنیاں) کے منافع پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی وجہ سے وہ مرحلہ وار قیمتیں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کمپنیاں پہلے ہی مصنوعات کی قیمتوں میں ۳؍ سے ۵؍ فیصد تک اضافہ کر چکی ہیں۔ ایف ایم سی جی کمپنیوں کے عہدیداروں نے حالیہ سہ ماہی نتائج کے دوران اشارہ دیا ہے کہ اگر لاگت کا دباؤ برقرار رہا تو آئندہ بھی قیمتوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ اس سے خام مال، لاجسٹکس اور پیکیجنگ کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ روپے کی کمزوری نے بھی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
زیادہ قیمت، پیکٹ میں کم مقدار
اس کا اثر کھانے پینے کی اشیاء، پرسنل کیئر، مشروبات اور گھریلو استعمال کے سامان سمیت کئی شعبوں میں نظر آ رہا ہے۔ ایف ایم سی جی کمپنیاں منافع برقرار رکھنے کے لیے یا تو قیمتیں بڑھا رہی ہیں یا پیک شدہ مصنوعات میں مقدار کم کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ تاہم ۵ ، ۱۰؍ اور ۱۵؍ روپے والے چھوٹے پیک برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ فروخت پر کم اثر پڑے۔
کمپنیاں لاگت کم کرنے کے لیے رعایتوں اور تشہیری اخراجات میں کمی، انوینٹری مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور سپلائی چین کو زیادہ مؤثر بنانے جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود صارفین پر بڑھتی ہوئی لاگت کا کچھ بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، ڈابر انڈیا کے گلوبل سی ای او موہت ملہوترا کا کہنا ہے کہ کمپنی کو اس مالی سال میں تقریباً ۱۰؍ فیصد مہنگائی کا سامنا ہے۔ مہنگائی کے اثر کو کم کرنے کے لیے کمپنی مختلف بزنس سیگمنٹس میں اوسطاً ۴؍ فیصد تک قیمتیں بڑھا چکی ہے۔ اس کے ساتھ لاگت پر قابو پانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
 برٹانیا،ایچ یو ایل اور میریکو کا کیا کہنا ہے؟
برٹانیا انڈسٹریز نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ایندھن اور پیکیجنگ لاگت میں تقریباً ۲۰؍ فیصد اضافے کے باعث جلد ہی قیمتیں بڑھائی جا سکتی ہیں۔ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او رکشیت ہرگویو نے کہا کہ کمپنی براہ راست قیمتیں بڑھانے اور پیک کے وزن میں کمی، دونوں آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ بڑے پیک والی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ ایل پی جی ، پی این جی   اور پیکیجنگ میں استعمال ہونے والے لیمینیٹ کی بڑھتی قیمتیں آپریشنل لاگت کو متاثر کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:گجرات ٹائٹنز نے راجستھان رائلز کو ۷۷؍ رنز سے شکست دے دی


 ہندوستان یونی لیور لمیٹڈ (ایچ یو ایل)(HUL) نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر کموڈیٹیز کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہا تو کمپنی مزید قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر ( سی ایف او) نیرنجن گپتا کے مطابق’’اب تک ہمیں ۸؍ سے۱۰؍ فیصد مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ ہم نے مختلف پورٹ فولیو کی بنیاد پر قیمتوں میں ۲؍ سے  ۵؍فیصد تک اضافہ کیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:سارہ علی خان فلم ’’پتی، پتنی اور وہ دو‘‘ کے حوالے سے کافی پرجوش


فیویکول، فیویکوئک اور ایم-سیل جیسے برانڈز کی مالک پڈیلائٹ انڈسٹریز بھی ایک اور قیمت بڑھانے کی تیاری میں ہے۔ کمپنی اپریل اور مئی میں دو بار قیمتیں بڑھا چکی ہے اور اب ان پٹ لاگت میں ۴۰؍ سے ۵۰؍ فیصد اوسط اضافے کی تلافی کے لیے مزید قیمتیں بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK