Updated: August 10, 2026, 4:12 PM IST
| Mumbai
اگر حکومت ۳؍ہزار سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرتی ہے تو ہندوستانی صارفین کی بڑی تعداد اس ڈجیٹل ادائیگی کے نظام سے دور ہو سکتی ہے۔ ایک نئے سروے کے مطابق صرف۱۲؍فیصد ہندوستانی صارفین ایسے ہیں جو فیس عائد ہونے کے باوجودیو پی آئی کا استعمال جاری رکھنے اور ٹرانزیکشن فیس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یوپی آئی پےمنٹ ۔ تصویر:آئی این این
اگر حکومت ۳؍ہزار سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرتی ہے تو ہندوستانی صارفین کی بڑی تعداد اس ڈجیٹل ادائیگی کے نظام سے دور ہو سکتی ہے۔ ایک نئے سروے کے مطابق صرف۱۲؍فیصد ہندوستانی صارفین ایسے ہیں جو فیس عائد ہونے کے باوجودیو پی آئی کا استعمال جاری رکھنے اور ٹرانزیکشن فیس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ سروےلوکل سرکلز کی جانب سے کیا گیا ہے۔ سروے کے نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت کی جانب سے یوپی آئی ادائیگیوں پرمرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) سے متعلق قانونی تبدیلی کی تجویز پر بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’فلم چار دیواری انسان کے نفسیاتی پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے‘‘
۳؍ہزارسے زیادہ کی ادائیگی پر کیا ہوگا؟
سروے کے مطابق اگر ۳؍ہزار سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پرایم ڈی آر یا کسی قسم کی فیس عائد کی جاتی ہے تو صرف ۱۲؍ فیصد صارفین نے کہا کہ وہ فیس ادا کرکے بھی یو پی آئی استعمال کرتے رہیں گے۔ اس کے برعکس بڑی تعداد میں صارفین فیس عائد ہونے کی صورت میں یو پی آئی کے استعمال میں کمی کر سکتے ہیں یا ادائیگی کے لیے دوسرے طریقے اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جو روزمرہ خریداری، بلوں کی ادائیگی، آن لائن شاپنگ اور دیگر خدمات کے لیے یو پی آئی پر انحصار کرتے ہیں۔
سیکشن ۱۰؍(اے) کیا ہے؟
پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹم ایکٹ ۲۰۰۷ء کی دفعہ۱۰؍ (اے) آن لائن ادائیگیوں سے متعلق ایک اہم قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ہندوستان میں ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی) آن لائن ادائیگیوں کے نظام کی نگرانی کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔آر ٹی جی ایس ، آئی ایم پی ایس اور یو پی آئی جیسے ادائیگی کے نظام اسی وسیع ڈجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم کا حصہ ہیں۔ موجودہ قانونی فریم ورک صارفین کو بعض قسم کی ادائیگی فیس سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے ذریعے حکومت کو الیکٹرانک ادائیگی کے مختلف طریقوں پر فیس کے حوالے سے قواعد طے کرنے کا زیادہ اختیار مل سکتا ہے۔
ایم ڈی آر کیا ہے؟
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ یا ایم ڈی آر وہ فیس ہے جو ڈجیٹل ادائیگی کے لین دین کے سلسلے میں عموماً تاجر یا کاروباری ادارے سے وصول کی جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے زیرِ بحث قانونی تبدیلی براہِ راست صارفین پر یو پی آئی فیس عائد نہیں کرتی۔ تاہم خدشہ یہ ہے کہ اگر بینکوں، پیمنٹ سروس پرووائیڈرز یا دیگر متعلقہ اداروں پر لاگت بڑھے تو وہ بالواسطہ طور پر اس کا بوجھ صارفین تک منتقل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ عاقب کے والد ہیں تو بے حد فخر ہوتا ہے‘‘
آر بی آئی گورنر نے کیا کہا؟
یو پی آئی فیس کے ممکنہ نفاذ سے متعلق سوال پرآر بی آئی گورنر سنجے ملہوترا نے حالیہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے دوران محتاط ردعمل دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اس کی لاگت کسی نہ کسی ذریعے سے پوری کرنا ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے یو پی آئی پرایم ڈی آرکے معاملے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانونی تبدیلی کے بعد مزید پیش رفت کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
فی الحال عام صارفین کے لیے یو پی آئی ادائیگیوں پر کوئی نئی فیس نافذ نہیں ہوئی ہے۔ایم ڈی آر کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ قانونی عمل اور اس کے بعد ہونے والی پالیسی مشاورت پر منحصر ہوگا۔ تاہم لوکل سرکلز کے سروے سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان صارفین یو پی آئی کو کم لاگت اور آسان ادائیگی کے طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں، اور فیس عائد ہونے کی صورت میں اس کے استعمال پر اثر پڑ سکتا ہے۔