فارورڈ فولارین بالوگن کی معطلی کے بعد ٹیم میں واپسی کے باوجود امریکہ کی مردوں کی قومی ٹیم ایک بار پھر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۱۶؍ سے باہر ہو گئی۔بلجیم نے اسے ۱۔۴؍گول سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔
EPAPER
Updated: July 07, 2026, 11:52 AM IST | New York
فارورڈ فولارین بالوگن کی معطلی کے بعد ٹیم میں واپسی کے باوجود امریکہ کی مردوں کی قومی ٹیم ایک بار پھر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۱۶؍ سے باہر ہو گئی۔بلجیم نے اسے ۱۔۴؍گول سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔
فارورڈ فولارین بالوگن کی معطلی کے بعد ٹیم میں واپسی کے باوجود امریکہ کی مردوں کی قومی ٹیم ایک بار پھر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۱۶؍ سے باہر ہو گئی۔بلجیم نے اسے ۱۔۴؍گول سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔ گزشتہ پانچ ورلڈ کپ میں یہ چوتھی بار ہے جب امریکہ کو اس ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پڑا ہے۔ سئیٹل اسٹیڈیم میں پیر کی رات کھیلے گئے میچ میں شائقین کی اکثریت بھی پرجوش تھی۔ وارم اپ کے لیے میدان میں آتے ہی بالوگن کا زبردست استقبال ہوا اور پورے اسٹیڈیم میں گونجتے ہوئے قومی ترانے کے بعد ایسا لگا جیسے پورا امریکہ جوش سے بھر گیا ہو۔ لیکن پانچ میچوں میں پہلی بار ان کا آغاز سست رہا۔ بلجیم نے کک آف سے ہی اپنا دبدبہ برقرار رکھا اور تقریباً فوراً ہی اپنا پہلا جارح کراس بھیجا۔ ایک منٹ کے اندر ہی ٹموتھی کاسٹاگنے نے دور سے زور دار شاٹ لگا کر فریز کو پوری طاقت لگانے پر مجبور کر دیا۔ مڈ فیلڈ میں کھلاڑی پھنسے ہوئے سے نظر آرہے تھے۔
Thank you fans. 😍🇧🇪
— Belgian Red Devils (@BelRedDevils) July 7, 2026
🎥 @fifaworldcup pic.twitter.com/7bHCCpQnQ5
بلجیم کا حملہ جاری رہا۔ تقریباً نو منٹ بعد بائیں جانب سے حملہ کرتے ہوئے لیونڈرو ٹروسارڈ نے آگے بڑھ کر ایک حملے کی شروعات کی اور گیند پنالٹی ایریا کے اوپری حصے کے پاس ہوا میں اچھال دی۔ نکولس راسکن نے سب سے تیز ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیسٹ کے آگے چھلانگ لگائی اور گیند کو گول کی طرف خوبصورتی سے موڑتے ہوئے ڈی کیٹیلیئر کو پاس کیا جنہوں نے ٹم ریم اور اینٹونی رابنسن کے درمیان سے نکل کر گیند کو گول میں ڈال دیا۔
کچھ لمحے پہلے تک اسٹیڈیم میں جو شور مچا ہوا تھا وہ اچانک خاموشی چھاگئی، سوائے بیلجیم کے کچھ شائقین کے، اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار امریکہ نے پہلا گول کھایا تھا۔ شروع میں کوئی خاص ردعمل نہیں ملا۔ لیکن ہائیڈریشن بریک کے بعد امریکی ٹیم نے کچھ جارحانہ رخ اپنایا اور انہیں تب کامیابی ملی جب ملک ٹلمین کی پنالٹی ایریا کے اوپری حصے سے لی گئی فری کک بیلجیم کی دفاعی دیوار سے ٹکرا کر غیر متوقع طور پر گول میں چلی گئی۔ ٹلمین نے جشن منایا - وہ گزشتہ ۶۰؍ برسوں میں ورلڈ کپ میں دو فری کک گول کرنے والے صرف دوسرے کھلاڑی ہیں اور امریکہ نے اسکور برابر کر دیا۔
دوسرے ہاف میں بھی کچھ خاص دیکھنے کو نہیں ملا۔ ڈیسٹ کی جگہ جیو رینا میدان پر آئے لیکن کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ امریکہ نے جو بھی فارم حاصل کرنے کی کوشش کی تھی وہ فریز کی ایک انتہائی خراب غلطی کی وجہ سے خاک میں مل گئی۔ فریز نے اپنے علاقے سے باہر آ کر ایک تھرو بال کو روکنے کی کوشش کی لیکن آگے کک مارنے سے پہلے وہ کچھ ہچکچائے اور گیند سیدھی واناکین کی طرف چلی گئی۔بلجیم کے مڈ فیلڈر نے تقریباً ۳۰؍ گز کی دوری سے پرسکون انداز میں گیند کو گول کی طرف واپس مارا اور ریم نے اپنے گول کیپر کو بچانے کی پوری کوشش کی لیکن گیند ان کے پیر میں الجھ گئی اور گول میں چلی گئی۔ چارلس ڈی کیٹیلیئر نے بلجیم کے لیے دو گول کیے اور ہینس واناکین نے امریکی گول کیپر میٹ فریز کی ایک بڑی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیسرا گول داغا۔ اسٹاپج ٹائم میں ایک اور گول کیپر کی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رومیلو لوکاکو نے بلجیم کے لیے چوتھا گول داغ دیا۔
یہ بھی پڑھئے:تہران میں شہید رہبر اعلیٰ کےجلوس جنازہ میں لاکھوں سوگواروں کی شرکت
ہار کے بعد امریکہ کے کوچ ماریشیو پوچیٹینو نے کہا کہ ’’شروع سے ہی ہم کھیل کے ساتھ تال میل قائم نہیں کرپائے، ہم کھیل میں کبھی شامل ہی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ جب ہم نے ۱۔۱؍سے برابری کا گول کیا تو اگلے ہی لمحہ ہم نے گول کھا لیا۔ شروع سے ہی یہ بہت مشکل تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’بلجیم کو مبارکباد، وہ ہم سے بہتر تھے۔ یہ ہمارا دن نہیں تھا، بہانے ڈھونڈنے کی بات نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کا عام طور پر یہ ٹیم کرسکتی ہے۔ یہی حقیقت ہے۔‘‘