Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ میں شدید گرمی کی پانچویں لہر، برطانیہ میں پارہ ریکارڈ سطح پر پہنچا

Updated: August 14, 2026, 1:45 PM IST | Agency | London/Paris

اسپین میں درجہ حرارت ۴۰؍ڈگری تک پہنچنے کا اندازہ ۔ فرانس، اٹلی، جرمنی میں بھی شدت کی دھوپ پڑرہی ہے۔ یورپ کی ندیوں، جھیلوں اور آبی ذخائر کی سطح آب میں نمایاں کمی آئی ہے۔

A section of the Doubs River and Lake Brenet, situated between eastern France and western Switzerland, have dried up due to heat and a lack of rainfall. Picture: INN
مشرقی فرانس اور مغربی سوئٹزرلینڈ کے درمیان ڈوبس ندی کا ایک حصہ اور برینی جھیل جو گرمی اور بارش کی کمی سے خشک ہوگئی ہے۔ تصویر: آئی این این

یورپ ان دنوں  شدید گرمی کی پانچویں لہر کی زد میں ہے۔ درجہ حرارت ۳۵؍ سے ۳۸؍ ڈگری پہنچ گیا ہے جو معمول سے بہت زیادہ ہے۔  شدت کی دھوپ اور تمازت نے اہل  یورپ کا حال بے حال کردیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق براعظم یورپ کے وسیع تر حصے موجودہ موسم گرما کے دوران جمعرات کے روز شدید گرمی کی پانچویں لہر کی زد میں ہیں اور اس دوران۱۳؍ کروڑ سے زائد باشندوں کو۳۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایکواڈور: فٹبالر ہالینڈ کی تصویر والے ۴۶۹؍ کوکین کے پیکٹ ضبط، خاتون گرفتار

لندن، پیرس اور روم سے موصولہ اطلاعات  کے مطابق جمعرات کے دن۱۳۵؍ ملین سے زائد یورپی باشندوں کو ایک بار پھر ایسی شدید گرمی کی لہر برداشت کرنا پڑ رہی ہے، جو رواں موسم گرما میں شدید گرمی کی پانچویں لہر ہے اور جس سے زیادہ تر فرانس، اٹلی،اسپین اور برطانیہ کے باشندے متاثر ہو رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یورپ عالمی سطح پر آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں اور شدید ہوتے جا رہے موسمیاتی حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا اور سب سے تیز رفتاری سے گرم ہوتا جا رہا براعظم ہے۔

اس براعظم کے کئی حصے ایسے ہیں، جہاں انتہائی نوعیت کی گرمی سے بچنے یا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے موجود ہی نہیں ہے۔اس کے علاوہ بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہروں اور دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم کر دینے والی خشک سالی کے نتیجے میں کئی یورپی ممالک میں حالیہ مہینوں میں لگنے والی جنگلاتی آگ کے واقعات بھی شدید تر اقتصادی اور ماحولیاتی نقصانات کی وجہ بنے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان میں جشن، اسلام آباد میں نصف شب شاندار آتش بازی

متعد یورپی ممالک میں اب تک شدید گرمی کی وجہ سے ہزاروں ایسے افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں، جن کی موت کی دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ بڑی وجہ شدید گرمی بھی بنی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ براعظم یورپ کے ہر پانچ میں سے تقریباً ۳؍ باشندوں کو جمعرات کے دن۳۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد کے درجہ حرارت کا سامنا ہے۔ مزید یہ کہ۱۳۵؍ ملین سے زائد یورپی باشندوں کو۳۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرات برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت زیادہ تر علاقوں میں مجموعی طور پر۵۰؍ ملین فرانسیسی بھی۳۵؍  ڈگری سینٹی گریڈ تک گرمی کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ اسپین کے وسیع تر علاقے بھی بہت تیز دھوپ کی وجہ سے تپ رہے ہیں۔ اٹلی میں اتنی ہی شدید گرمی برداشت کرنے والے شہریوں کی تعداد تقریباً۲۹؍ ملین بنتی ہے جبکہ برطانیہ کے بہت گنجان آباد ملکی دارالحکومت لندن اور وسطی انگلینڈ میں قریب ۲۳؍ ملین افراد کیلئے بھی ٹمپریچر۳۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے یا کر جائے گا۔

دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق موسم کی پیشگوئی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اسپین میں بھی شدت کی گرمی پڑے گی اور درجہ حرارت ۴۰؍ڈگری پہنچنے کا اندازہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK