Inquilab Logo Happiest Places to Work

یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان میں جشن، اسلام آباد میں نصف شب شاندار آتش بازی

Updated: August 14, 2026, 10:58 AM IST | Islamabad

پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن کا ماحول رہا، اسلام آباد میں نصف شب شاندار آتش بازی کی گئی جبکہ شہریوں نے قومی پرچم لہراتے ہوئے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور آبی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پاکستان کے ۸۰؍ ویں یومِ آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن کا ماحول رہا، اسلام آباد میں نصف شب شاندار آتش بازی کی گئی جبکہ شہریوں نے قومی پرچم لہراتے ہوئے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور آبی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

۱۴؍ اگست یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کے دارالحکومت میں نصف شب آتش بازی کی گئی، جبکہ ملک بھر میں پرجوش ہجوم سڑکوں پر نکل آیا اور قومی پرچم لہراتے ہوئے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ خواتین اور بچے بھی رات گئے ہونے والی تقریبات میں شریک ہوئے، جبکہ سڑکوں اور عوامی مقامات پر سبز و سفید لباس پہنے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ اسلام آباد میں اہم شاہراہوں پر لوگوں کا ہجوم دیکھا گیا اور آتش بازی سے رات کا آسمان روشن ہوگیا۔

واضح ہو کہ پاکستان ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خاتمے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ اس سال کی تقریبات میں اسلام آباد میں ’’یادگارِ فتح‘‘ کا افتتاح بھی شامل تھا، جسے گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ کے حوالے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام اسے ’’معرکۂ حق‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

شریف کی ہندوستان کو تنبیہ

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا، ’’پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’پاکستان کی خودمختاری کو درپیش کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا۔‘‘ ان کا حوالہ مئی ۲۰۲۵ء میں ہندوستان کے ساتھ ہونے والی چار روزہ لڑائی کی جانب تھا۔ یاد رہے کہ یہ لڑائی اس واقعے کے بعد شروع ہوئی تھی جب ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح افراد نے ۲۶؍ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ ہندوستان نے اس حملے کا الزام پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں پر عائد کیا تھا، جبکہ اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ اسلام آباد نے واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم نئی دہلی نے یہ تجویز مسترد کردی اور پاکستان کے خلاف سرحد پار حملے شروع کیے۔ دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان میزائل، ڈرون اور دیگر حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے ذریعے لڑائی روکی گئی۔ اس دوران پاکستان نے متعدد ہندوستانی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ شہباز شریف نے جنگ کے بعد ہندوستان کی جانب سے پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدہ معطل کیے جانے پر بھی تنقید کی۔ یہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا کئی دہائیوں پرانا معاہدہ ہے، جو دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم سے متعلق ہے۔ شہباز شریف نے کہا، ’’پانی کا ہر قطرہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہندوستان نے پاکستان کی آبی رسد کو خطرے میں ڈالا تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK