۳۰؍ اپریل تک ایک کروڑ ۸۹؍ لاکھ خواتین نے کے وائی سی کا عمل مکمل کیا ، جبکہ اصل فہرست میں ۲؍ کروڑ ۴۳؍ لاکھ خواتین کےنام شامل تھے
EPAPER
Updated: May 02, 2026, 12:04 AM IST | Mumbai
۳۰؍ اپریل تک ایک کروڑ ۸۹؍ لاکھ خواتین نے کے وائی سی کا عمل مکمل کیا ، جبکہ اصل فہرست میں ۲؍ کروڑ ۴۳؍ لاکھ خواتین کےنام شامل تھے
مہایوتی حکومت کی مقبول ترین اسکیم ’لاڈلی بہن ‘ کیلئے اہل خواتین کو دی گئی ’ کے وائی سی‘ کی مدت گزشتہ جمعرات کو ختم ہو گئی۔مارچ اور اپریل کے دوران ہوئی کے وائی سی کے بعد لاڈلی بہن اسکیم کیلئے اہم خواتین کی فہرست سے ۵۴؍ لاکھ خواتین کے نام حذف ہو گئے ہیں۔اب مجموعی طور پر اس فہرست میں ایک کروڑ ۸۹؍ لاکھ خواتین کے نام باقی رہ گئے جنہیں آئندہ بھی اسکیم کے تحت ہرماہ ۱۵۰۰؍ روپے ملتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ مہایوتی حکومت نے جون ۲۰۲۴ء میں لاڈلی بہن اسکیم متعارف کروائی تھی جس میں خواتین کو ہر ماہ ۱۵۰۰؍ روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس وقت اس اسکیم سے استفادہ کرنے والی خواتین کی تعداد ۲؍ کروڈ ۴۷؍ لاکھ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی اسکیم کی وجہ سے نومبر ۲۰۲۴ء میں ہوئے اسمبلی الیکشن میں مہایوتی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن اقتدارمیں لوٹتے ہی مہایوتی نے لاڈلی بہن اسکیم سے فائدہ حاصل کرنے والی خواتین کی جانچ شروع کر دی۔ سال بھر میں مختلف وجوہات کی بنا پر ۴؍ لاکھ خواتین کے نام اس فہرست کم کر دیئے گئے۔ الزام تھا کہ ان میں کچھ مرد تھے جنہوں نے خاتون کے طور پر فارم بھر کر لاڈلی بہن اسکیم کا فائدہ اٹھایا تھا جبکہ ، بعض ایسی خواتین نے فارم بھرا تھا جو سرکاری ملازمہ تھیں ، نیز کچھ خواتین کے گھر میں کار ہونے کے باوجود انہوں نے لاڈلی بہن اسکیم سے فائدہ اٹھایا تھا۔
اس کے بعد حکومت نے لاڈلی بہن اسکیم کیلئے اہل خواتین کو ای کے وائی سی کرنے کی ہدایت دی جس کی آخری تاریخ ۳۱؍ مارچ مقرر کی گئی تھی۔ اس مدت تک تقریبا ً ایک کروڑ ۷۵؍ لاکھ خواتین نے اپنا ای کے وائی سی کروایا تھا۔ یعنی ۲؍ کروڑ ۴۳؍ لاکھ خواتین میں سے ۶۸؍ لاکھ خواتین کے نام ای کے وائی سے نہ کروانے کے سبب خود بخود کم ہو گئے تھے لیکن حکومت نے ای کے وائی سی کی تاریخ میں ۳۰؍ اپریل تک توسیع کی ۔ اس ایک ماہ کے عرصے میں مزید ۱۴؍ لاکھ خواتین نے ای کے وائی سی کا عمل مکمل کیا۔ اس طرح اہل خواتین کی فہرست میں ۱۴؍ لاکھ ناموں کا اضافہ ہوا۔ اب مجموعی طور پر ایک کروڑ ۸۹؍ لاکھ خواتین لاڈلی بہن اسکیم کیلئے اہل ہیں۔ یعنی اصل فہرست میں سے ۵۴؍ لاکھ خواتین کے نام حذف ہو گئے ہیں۔ اس طرح اس حکومت کی ماہانہ ۸۱۰؍ کروڑ یعنی سالانہ ساڑھے ۹؍ ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔