اس انکار کی وضاحت کرتے ہوئے فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی نائب صدر سوزن شلبی نے کہا کہ ”رجوب ایسے شخص سے ہاتھ نہیں ملا سکتے جسے اسرائیلی اپنے فاشزم اور نسل کشی پر پردہ ڈالنے کیلئے لائے ہیں۔“
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 10:05 PM IST | Ottawa
اس انکار کی وضاحت کرتے ہوئے فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی نائب صدر سوزن شلبی نے کہا کہ ”رجوب ایسے شخص سے ہاتھ نہیں ملا سکتے جسے اسرائیلی اپنے فاشزم اور نسل کشی پر پردہ ڈالنے کیلئے لائے ہیں۔“
فیفا کی حالیہ کانگریس کے دوران فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ جبرئیل رجوب نے اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن کے نائب صدر باسم شیخ سلیمان کے ساتھ مشترکہ فوٹو سیشن میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ رجوب نے اسرائیلی عہدیدار کے ساتھ مصافحہ کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں عہدیداروں نے مندوبین سے خطاب کیا، جس کے بعد فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے انہیں اسٹیج پر ایک ساتھ کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ رجوب نے اس لمحے کا حصہ بننے کی بار بار کی درخواستوں کو مسترد کر دیا اور گفتگو کے دوران کہا کہ ”ہم مصائب جھیل رہے ہیں۔“
اس انکار کی وضاحت کرتے ہوئے فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی نائب صدر سوزن شلبی نے کہا کہ ”رجوب ایسے شخص سے ہاتھ نہیں ملا سکتے جسے اسرائیلی اپنے فاشزم اور نسل کشی پر پردہ ڈالنے کیلئے لائے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال فلسطینیوں کو درپیش وسیع تر تکالیف کی عکاسی کرتی ہے۔ انفینٹینو نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے شرکاء سے کہا کہ ”ہم مل کر کام کریں گے... تاکہ بچوں کو امید دے سکیں۔“ انہوں نے اس مسئلے کی پیچیدگی کا بھی اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی مسلسل رکاوٹوں کے سبب غزہ کے اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت
بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے شلبی نے علامتی مصافحہ کرانے کی کوشش پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے رجوب کے خطاب کے متن کی اہمیت کم ہوئی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ رجوب نے فیفا پر زور دینے کیلئے کافی وقت صرف کیا ہے کہ وہ خاص طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں سرگرم اسرائیلی فٹبال کلبوں کے حوالے سے اپنے قوانین کو برقرار رکھے۔ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن نے حال ہی میں ’کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت‘ (سی اے ایس) سے رجوع کرکے ایسے کلبوں کے خلاف کارروائی سے فیفا کے انکار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ بستیوں میں قائم ٹیموں کو اسرائیلی فٹبال حکام کے زیرِ انتظام مقابلوں میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اس سے قبل، اسرائیلی بستیوں میں کھیلنے والے کم از کم آٹھ فٹبال کلبوں کی نشان دہی کی تھی اور فیفا سے انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رجوب نے اپنے موقف کا اعادہ کیا اور فیفا پر زور دیا کہ وہ اپنے قوانین کا اطلاق ”انصاف اور منطق کے ساتھ“ کرے۔ انہوں نے فلسطینی کھیلوں کو متاثر کرنے والی صورتحال کو ”خوفناک“ قرار دیتے ہوئے غزہ میں کھیلوں کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور کھلاڑیوں و عملے کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا۔ اسرائیلی نمائندے کا ذکر کرتے ہوئے رجوب نے کہا کہ ”اس نے ان مصائب پر توجہ تک نہیں دی... میں ایسے شخص سے ہاتھ کیسے ملا سکتا ہوں یا اس کے ساتھ تصویر کیسے کھنچا سکتا ہوں؟“