بنگلہ دیش کی ٹیم تیسرے ٹی۲۰؍ میچ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ بنگلہ دیش نے آج تک کسی ایک دورے میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک سے زیادہ سیریز نہیں جیتی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 10:05 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش کی ٹیم تیسرے ٹی۲۰؍ میچ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ بنگلہ دیش نے آج تک کسی ایک دورے میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک سے زیادہ سیریز نہیں جیتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی ٹیم تیسرے ٹی۲۰؍ میچ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ بنگلہ دیش نے آج تک کسی ایک دورے میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک سے زیادہ سیریز نہیں جیتی ہیں۔ اس دورے میں وہ پہلے ہی ون ڈے سیریز ۱۔۲؍سے اپنے نام کر چکے ہیں اور اب ٹی ۲۰؍سیریز جیتنے کا سنہرا موقع ان کے پاس ہے۔
سیریز کا دوسرا میچ بارش کی نذر ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش اب یہ سیریز ہار نہیں سکتا، اور پہلے میچ میں ۱۸۳؍ رنز کا ہدف باآسانی حاصل کرنے کے بعد ٹیم کے حوصلے بلند ہیں۔ اس فتح میں مڈل آرڈر بلے بازوں توحید ہردوئے، شمیم حسین اور پرویز حسین نے کلیدی کردار ادا کیا تھا، جنہوں نے بہترین انداز میں رنز کی رفتار بڑھاتے ہوئے دو اوورز قبل ہی ہدف عبور کر لیا تھا۔ تاہم، میزبان ٹیم چاہے گی کہ ان کے اوپنرز پاور پلے میں تھوڑی زیادہ چستی دکھائیں۔ سیف حسن اور تنزید حسن دونوں باصلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن پہلے میچ میں وہ مطلوبہ تیزی سے رنز نہیں بنا سکے۔ سیف حسن نے ۱۶؍ گیندوں پر ۱۷؍ رنز بنائے، جہاں انہوں نے باؤنڈریز تو لگائیں لیکن ڈاٹ گیندیں (بغیر رن والی گیندیں) بھی زیادہ کھیلیں۔ تنزید نے ۲۵؍ گیندوں پر ۲۰؍ رنز بنائے۔
دوسری جانب، نیوزی لینڈ کا تجربہ اس کے برعکس رہا۔ کٹینے کلارک اور ڈین کلیور نے دوسری وکٹ کے لیے ۸۸؍ رنز کی برق رفتار شراکت داری کی، لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی مڈل آرڈر لڑکھڑا گیا۔ صرف قائم مقام کپتان نک کیلی ہی ۳۹؍رنز کی اننگز کھیل کر مزاحمت کر سکے۔ کیوی ٹیم جو ایک وقت میں ۲۰۰؍ سے زائد رنز بناتی نظر آ رہی تھی، آخر میں اس ہدف تک نہ پہنچ سکی۔ گیند بازی میں نیوزی لینڈ کی ناتجربہ کاری واضح طور پر نظر آئی۔ پہلے میچ میں کچھ مہنگے اوورز ان کی شکست کی وجہ بنے۔ مہمان ٹیم ممکنہ طور پر آخری میچ کے لیے بائیں ہاتھ کے اسپنر جیڈن لیناکس کو شامل کرنے پر غور کر سکتی ہے تاکہ اپنی گیند بازی کو مضبوط بنا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:۷۰۰؍ کروڑ کے بجٹ میں بننے والی پربھاس کی ’’فوجی‘‘ کا سیکوئل نہیں آئے گا
بنگلہ دیشی کرکٹ حلقوں میں شمیم حسین کے حیرت انگیز شاٹ کا تذکرہ
بنگلہ دیشی کرکٹ کے منظر نامے پر اس وقت شمیم حسین کے ایک ایسے شاٹ کا تذکرہ ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ چٹاگانگ میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹی۲۰؍ میچ میں شمیم کی۱۳؍ گیندوں پر۳۱؍ رنز کی طوفانی باری نے میزبان ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف عبور کرنے میں مدد دی اور چھ وکٹوں سے فتح دلائی۔اگرچہ دونوں ٹیمیں دوسرے ٹی۲۰؍ کے بارش کی نذر ہونے کے بعد اب فیصلہ کن مقابلے کے لیے ڈھاکہ واپس آ چکی ہیں، لیکن وہ ایک شاٹ اب بھی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ نیتھن اسمتھ کا سامنا کرتے ہوئے شمیم نے ایک انتہائی دلیرانہ اسٹروک کھیلا، جس میں انہوں نے ایک سست رفتار باؤنسر کو کھینچ کر وکٹ کیپر کے سر کے اوپر سے باؤنڈری کی راہ دکھا دی۔
یہ بھی پڑھئے:ویبھو سوریا ونشی کی کسی واضح کمزوری کی نشاندہی کرنا مشکل ہے: ایان بشپ
یہ شاٹ مکمل طور پر غیر روایتی تھا۔ گیند کی ساخت ایسی تھی کہ اسے بولر کے سر کے اوپر سے سیدھا جانا چاہیے تھا، لیکن شمیم کی مہارت نے سب کو دنگ کر دیا۔ پریس باکس میں موجود مبصرین کی نظریں فطری طور پر گیند کو مڈ آف یا لانگ آف کی جانب تلاش کر رہی تھیں، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ گیند وکٹ کیپر کے اوپر سے اڑتی ہوئی باؤنڈری پار کر چکی ہے۔ میرپور میں ہونے والے سیریز کے آخری میچ سے قبل جب شمیم حسین کی توجہ اس شاٹ کی جانب مبذول کرائی گئی تو انہوں نے سادگی سے جواب دیا’’سچ کہوں تو، مجھے اس شاٹ کا نام نہیں معلوم۔‘‘انہوں نے مزید بتایاکہ ’’میں نیٹ پر ہمیشہ ان شاٹس کی مشق کرتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ جب میں بلے بازی کے لیے جاؤں گا، تو مجھے غیر روایتی شاٹس کھیلنا پسند ہوں گے۔ اسی لیے میں ان کی بہت زیادہ مشق کرتا ہوں۔‘‘