آسام میں سیلاب کی صورتحال ہنوز ابتر،۵۴؍لاکھ افراد متاثر

Updated: June 24, 2022, 8:55 AM IST | guwahati

مزید۱۲؍افراد کی ہلاکت کے بعد مہلوکین کی تعداد ۱۰۱؍ہوگئی،۳۶؍میں سے ۳۲؍اضلاع کے بیشتر علاقے زیر آب،چند مقامات پر پانی کم ہوا

Everything seems to be submerged due to floods in Assam
آسام میں سیلاب کی وجہ سے سب کچھ پانی میں ڈوبا ہوا نظر آرہا ہے

آسام میں سیلاب کی صورتحال جمعرات کوناگفتہ بہ رہی جس میں ۵۴ء۵؍ لاکھ سے زیادہ لوگ اب بھی متاثر ہیں جبکہ حکام نے مزید۱۲؍ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے۔ انہوںنےکہا کہ مئی کے وسط سے سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد اب۱۰۱؍ ہوگئی ہے۔زیادہ تر متاثرہ اضلاع میں برہم پتراور بارک ندیوں کے ساتھ ساتھ اس کی معاون ندیوں میںسیلاب جاری ہے اور ریاست کے مجموعی طور پر ۳۶؍اضلاع میں سے۳۲؍ بڑے پیمانے پر زیر آب ہیں۔تاہم چند مقامات پر سیلابی پانی کم ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق، دن کے دوران این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور دیگر ایجنسیوںکے ذریعہ ریاست بھرمیں ۲۷۶؍کشتیوں کی مدد سے کل۳؍ہزار ۶۵۸؍افراد کوبچایا گیا۔
 ایک اہلکار نے بتایا کہ آسام کے سیلاب سے متاثرہ ۱۲؍اضلاع میں این ڈی آر ایف کےذریعے ۱۴؍ہزار ۵۰۰؍سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے۔اس کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ سنتوش کمارسنگھ نے خبررساں ایجنسی کوبتایاکہ این ڈی آر ایف کی پہلی بٹالین ڈیزاسٹر ریسپانس فورس نےمتاثرہ اضلاع میں بچاؤ کارروائیوں میں حصہ لیا اور سیلاب زدہ اضلاع میں ۷۰؍سے زیادہ کشتیاں اور ۴۰۰؍جوانوں کو تعینات کیا۔انہوں نے کہا کہ ۲۰۷؍اہلکاروں پر مشتمل دیگر بٹالین کی اضافی۸؍ٹیموں کو منگل سے اب تک سلچر کے لیے ہوائی جہازسے بھیجاگیا ہے۔سنگھ نےکہاکہ این ڈی آر ایف کی طرف سے کامروپ، کامروپ دیہی، بونگائیگاؤں، بارپیٹا، بجالی، ہوجائی، نلباری، درنگ، تمول پور، ناگاؤں، ادلگوری اور کیچھر میں بچاؤ کی کارروائیاں چل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فورس متاثرہ لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کرنے میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کرنے میں بھی مصروف ہے۔
 سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) کے بلیٹن کے مطابق کوپلی ندی ناگون ضلع کے کامپور، شیوساگر میں دسانگ ندی، نیمتی گھاٹ، تیز پور، گولپاڑہ اور دھوبری میںبرہم پتر، کریم گنج، کاچر اور ہیلاکنڈی ضلع اور کشیارا میں دریائے برک خطرےکے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔
 بارک وادی کے اضلاع کاچر، ہیلاکنڈی اور کریم گنج کو بارک اور کشیارا ندیوں کے بڑھتے ہوئے پانی سےشدید نقصان پہنچا۔ سلچر شہر گزشتہ۴؍دنوں سے ایک پشتےمیں شگاف پڑنے کی وجہ سے ڈوبا ہوا ہے۔کاچر ضلع کے۵۶۵؍گاؤں میں مجموعی طور پر ۲؍لاکھ ۳۲؍ہزار۲؍افرادسیلاب سے متاثرہیں، کریم گنج کے۴۶۹؍گاؤںمیں۲؍لاکھ ۸۱؍ہزار ۲۷۱؍اور ہیلاکنڈی کے۹۸؍گاؤں میں۵۱؍ہزارسے زیادہ لوگ متاثر ہیں۔
 وادی میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیےوزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرماجمعرات کو سلچر کا دورہ کرنےوالے ہیں۔ ریاست کے ۳۲؍ اضلاع میں  مجموعی طور پر ۵۴؍لاکھ ۵۷؍ہزار ۶۰۱؍ افرادمتاثر ہوئے ہیں۔
 آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی (اے  ایس ڈی ایم اے)کے ایک بلیٹن کے مطابق، سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں سرفہرست بارپیٹا ہے جہاں۱۱؍لاکھ ۲۹؍ہزار ۳۹۰؍ افرادمتاثرہیں،اس کےبعد کامروپ میں ۷؍ لاکھ ۸۹؍ہزار ۴۹۶؍ افراد ، دھوبری میں ۵؍ لاکھ ۹۷؍ ہزار ۱۵۳؍اور ناگاؤں میں۵؍لاکھ ۳؍ ہزار  ۴۵۰؍ افرادسیلاب سے متاثر  ہیں۔کاچر، درنگ، گولپاڑہ، کریم گنج اور موریگاؤں سے شہری آبادی کے سیلاب سے متاثر ہونےکی اطلاع ملی ہے۔اس میں کہا گیا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے آنے والےتباہ کن سیلاب نے ۱۱۲؍ ریونیو حلقوں اور۴؍ہزار۹۴۱؍گاؤںکو متاثر کیا ہے اور۲؍لاکھ ۷۱؍ ہزار ۱۲۵؍افرادکو ۸۴۵؍ ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔امدادی سامان ایک ہزار۲۶؍ڈیلیوری پوائنٹس سے سیلاب متاثرین میں تقسیم کیا گیا جنہوں نے ریلیف کیمپوں میں پناہ نہیں لی۔اے ایس ڈی ایم اے کے بلیٹن کے مطابق، دیما ہساو ضلع کے بیتانی گاؤں سے لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاع ملی اور کریم گنج کےبارتھل میں مختلف مقامات پر ۱۹؍مکانوںکو نقصان پہنچا۔ سیلاب نے کامروپ ضلع میں۲؍پشتوں کو توڑنے کے علاوہ۲۱۸؍سڑکوں اور ۲۰؍پلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔۹۹؍ہزار ۲۶؍ہیکٹرکے رقبہ میں پھیلی فصل اور۳۳؍لاکھ ۱۷؍ ہزار ۸۶؍جانور متاثر  ہیں۔ اے ایس ڈی ایم اے نے بتایا کہ بکسا، بسوناتھ، بونگائیگاؤں، چرانگ، دھوبری، کوکراجھار، لکھیم پور، ماجولی، موریگاؤں، نلباری اور ادلگوری سے بھی بڑے پیمانے پر کٹاؤ کی اطلاع ملی ہے۔

assam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK