گیگ کارکنوں نے ۱۰؍ ہزار روپے ریلیف اور آئی ڈی تحفظ کا مطالبہ کیا،کارکنوں کی یونین نے مرکزی وزیر کو خط لکھا۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 9:55 AM IST | New Delhi
گیگ کارکنوں نے ۱۰؍ ہزار روپے ریلیف اور آئی ڈی تحفظ کا مطالبہ کیا،کارکنوں کی یونین نے مرکزی وزیر کو خط لکھا۔
مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث عالمی ایل پی جی سپلائی میں رکاوٹ اور اس کے نتیجے میں آرڈرز میں بھاری کمی کا حوالہ دیتے ہوئے گیگ و پلیٹ فارم سروس ورکرز یونین (جی آئی پی ایس ڈبلیو یو) نے جمعرات کو فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز سے معاوضے اور آئی ڈی معطلی سے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ یونین نے وزیر محنت منسکھ منڈاویہ کو لکھے خط میں کہا کہ زومیٹو اور سوئیگی جیسے پلیٹ فارمز پر فوڈ ڈیلیوری آرڈرز میں ۵۰سے۶۰؍ فیصد تک کمی آئی ہے۔
یونین نے اس کمی کی وجہ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی قلت کو بتایا جس کے باعث ریستوران، ڈھابے، کلاؤڈ کچن، کیٹرنگ سروسیز اور اسٹریٹ فوڈ فروش بند ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قلت امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع سے جڑی عالمی سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
یونین نے کہا کہ ایل پی جی سپلائی چین میں اس رکاوٹ نے گیگ کارکنوں کی روزی روٹی کو شدید متاثر کیا ہے جس سے کئی مزدور گھریلو اخراجا ت پورے کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یونین کے ترجمان نرمل گورانا نے کہاکہ ’’ ہمارے اراکین بھوک کے دہانے پر ہیں۔ سیکڑوں لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے جن کے خاندان دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں اور بچے بھوکے سو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گیگ کارکن، جن کے پاس نہ کوئی مقررہ تنخواہ ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ، اس کساد بازاری کی سب سے بڑی ماربرداشت کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روپیہ ۳۹؍ پیسے کم ہو کر۲۱ء۹۲؍ فی ڈالر کی ریکارڈ نچلی سطح پر بند
دہلی کے ایک ڈیلیوری کارکن نے کہاکہ ’’دن بھر میں۳۰؍ ڈیلیوری سے گھٹ کر اب صرف ۵ تا ۱۰؍ رہ گئی ہیں، اوپر سے کمپنیاں میری آئی ڈی معطل کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں۔‘‘
یونین نے کہا کہ اس کساد بازاری کا اثر فوڈ سپلائی چین سے جڑے دیگر کارکنوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کو ریستوران سے ملنے والے چکروں میں کمی آئی ہے جبکہ کلاؤڈ کچن میں کام کرنے والے ملازمین کی نوکریاں جا رہی ہیں۔گورانا نے کہاکہ ’’اندازہ ہے کہ تقریباً ایک کروڑ کارکن اس سے متاثر ہو رہے ہیں، جن میں گیگ و پلیٹ فارم کارکنوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔