کھانے کے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔پستہ، زعفران، انجیر اور خوبانی جیسے میوہ جات کی سپلائی تقریباً رکنے کے قریب ہے۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 11:58 AM IST | New Delhi
کھانے کے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔پستہ، زعفران، انجیر اور خوبانی جیسے میوہ جات کی سپلائی تقریباً رکنے کے قریب ہے۔
گلوبلائزیشن کے اس دور میں تمام ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لئے کسی ایک ملک میں ہونے والی اچھی یا بری صورتحال کا اثر دوسرے ممالک پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح امریکہ- اسرائیل اور ایران میں جاری جنگ کے باعث ہندوستان میں بھی کئی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں جس کا براہِ راست اثرعوام کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خام تیل کی قیمتوں میں ’آگ‘،حالات غیر یقینی
ایران میں جاری جنگ کے باعث کھانے کے تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ حالانکہ ہندوستان ایران سے براہِ راست خوردنی تیل درآمد نہیں کرتا لیکن ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً۶۰؍ فیصد ککنگ آئل دوسرے ممالک سے منگواتا ہے۔ مثلاً انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پام آئل، ارجنٹائنا اور برازیل سے سویا بین آئل، جبکہ روس اور یوکرین سے سورج مکھی کا تیل آتا ہے۔ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث خام تیل مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پام اور سویا آئل کو زیادہ مقدار میں بایو فیول بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے کھانے کے تیل کی سپلائی کم ہو جاتی ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جنگی حالات میں شپنگ اور کموڈیٹی مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ جاتا ہے جس سے عالمی تجارت سست پڑ جاتی ہے اور اسٹاک کی کمی پیدا ہونے لگتی ہے۔
انڈین ویجیٹیبل آئل پروڈیوسرز اسوسی ایشن کے چیئرمین سدھاکر دیسائی کے مطابق:’’امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی کا براہِ راست اثر ہندوستان میں خام تیل اور کھانے کے تیل کی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ خام تیل مہنگا ہونے سے پیٹرول اور ڈیزل سمیت تمام فوسل فیول مہنگے ہو جاتے ہیں جس سے نقل و حمل کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سمندری جہازوں کے بیمہ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔‘‘
بتایا جاتا ہے کہ۵؍ مارچ سے کئی سمندری بیمہ کمپنیوں نے اس خطے کیلئے جنگی خطرے کی کوریج دینا بند کر دی ہے۔ اس وجہ سے جہازوں کیلئے اس راستے سے گزرنا نہ صرف مہنگا بلکہ خطرناک بھی ہو گیا ہے۔
خشک میوہ جات بھی مہنگے
جنگی حالات کے باعث ایران اور افغانستان سے آنے والے پستہ، زعفران، انجیر اور خوبانی جیسے میوہ جات کی سپلائی تقریباً رکنے کے قریب ہے جس کے نتیجے میں ان کی قیمتیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی ایشیا کے بحران کے باعث شیئر بازاروں میں بڑی گراوٹ
دال اور پیاز کی قیمت میں اضافہ
ہندوستان ارہر، ارد اور مسور جیسی دالیں میانمار، کنیڈا اور آسٹریلیا سے درآمد کرتا ہے لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مغربی ایشیا میں پھنسے جہازوں اور کنٹینرز کو لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وجہ سے شپنگ کمپنیوں نے ’وار رسک سرچارج‘بھی لگا دیا ہے جس سے دالوں کو ہندوستان لانے کی لاگت بڑھ گئی ہے۔
اسی طرح ہندوستان پیاز کا بھی بڑا درآمد کنندہ ہے۔ جنگی حالات میں ذخیرہ اندوزی کے خوف سے پیاز کی مانگ اچانک بڑھ گئی ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹ کے خدشے کے باعث پیاز کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔