Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کی تیل کی پیداوار سعودی عرب اور روس کے مجموعی حجم سے تجاوز کرگئی، گیس کی بھی ریکارڈ پیداوار

Updated: March 05, 2026, 10:21 PM IST | Washington

امریکی اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، مارچ ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں تیل کی پیداوار تقریباً ۲۴ ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی ’خشک قدرتی گیس‘ کی پیداوار ۱۱۰ ارب مکعب فٹ یومیہ (Bcf/d) سے تجاوز کر گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اعدادوشمار کے مطابق، امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ توانائی پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس کی تیل کی پیداوار اب سعودی عرب اور روس کی مشترکہ پیداوار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ قدرتی گیس کی پیداوار نے امریکہ نے روس، چین اور ایران کی مجموعی پیداوار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

امریکی اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، مارچ ۲۰۲۶ء میں امریکہ میں تیل کی پیداوار تقریباً ۲۴ ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار سعودی عرب کے تقریباً ۹ء۱۰ ملین بیرل یومیہ اور روس کے تقریباً ۵ء۱۰ ملین بیرل یومیہ کی مشترکہ پیداوار سے زیادہ ہیں۔ پیداوار میں اس اضافے کی بڑی وجہ گزشتہ دہائی کے دوران شیل ڈرلنگ میں ہونے والی تکنیکی ترقی ہے، جس نے امریکہ کو ایک بڑے تیل درآمد کنندہ سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندگان کی فہرست میں پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل-ایران جنگ کے باعث خام تیل کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے

امریکہ نے قدرتی گیس کی پیداوار میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ امریکہ کی ’خشک قدرتی گیس‘ کی پیداوار ۱۱۰ ارب مکعب فٹ یومیہ سے تجاوز کر گئی ہے، جو روس، ایران اور چین کی مشترکہ پیداوار کی سطح سے زیادہ ہے۔ امریکہ تقریباً ۲۰۰۹ء سے خشک قدرتی گیس کی سب سے زیادہ پیداوار کرنے والا ملک رہا ہے۔ اب اس کی سالانہ پیداوار تقریباً ایک ٹریلین مکعب میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ روس کی تخمینہ شدہ ۶۱۸ سے ۶۴۲ ارب مکعب میٹر کی پیداوار سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

گیس کی پیداوار میں اس توسیع نے امریکہ کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بھی بنا دیا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں ایل این جی کی پہلی کھیپ بھیجنے کے بعد سے، امریکہ نے مسلسل برآمدات میں اضافہ کیا ہے، جو اب اوسطاً ۱۵ سے ۱۶ ارب مکعب فٹ یومیہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خام تیل ۱۳؍ فیصد مہنگا، قطر میں ایل این جی کا پروڈکشن بند

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میدان میں امریکہ کی ترقی نے اس کے معاشی اور جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کو مضبوط کیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی توانائی کی منڈیاں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔

امریکی حکام نے پیداوار میں اس اضافے کو توانائی کے شعبے میں ڈرلنگ کی توسیع اور ڈی ریگولیشن (اصلاحات) کو فروغ دینے والی پالیسیوں سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔ امریکی وزیر داخلہ ڈوگ برگم نے حال ہی میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ ”امریکن اینرجی ڈومیننس“ (امریکی توانائی کی بالادستی) کی حکمت عملی کو اس کا کریڈٹ دیا اور دلیل دی کہ اس نے ملکی توانائی کی پیداوار کو فروغ دیا اور قومی سلامتی کو مضبوط کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK