غذائی قلت سےعالمی قحط پھیلنےکا خدشہ، ورلڈ بینک کا انتباہ

Updated: June 10, 2022, 11:48 AM IST | Agency | New York

عالمی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کووڈ لاک ڈاؤن اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے، یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا جس سےمعاشی وغذائی بحران کے شدید ہونے کا خدشہ ہے

Rising commodity prices could hurt people`s purchasing power in developing countries.Picture:INN
اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ تصویر: آئی این این

عالمی بینک نے رواں سال کے لیے اپنی شرح نمو کے تخمینے میں ایک فیصد سے زیادہ کمی کر دی ہے۔ بینک کے ماہرین نےمعاشی سست روی کے خطرے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے جو زیادہ افراط زر اور سست نمو کا مرکب ہے۔ عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا کہ بہت سے ممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا۔‘‘
عالمی بینک کی پیش گوئیاں کیا ہیں؟
 عالمی بینک نے رواں سال شرح نمو میں۲ء۹؍فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے جنوری میں۲۰۲۲ء کے لئے شرح  نمو میں نمو میں ۴ء۱؍فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ عالمی بینک نے  آئندہ مالی سال یعنی ۲۰۲۳ء  اور ۲۰۲۴ء کیلئے پیداواری شرح میں صرف ۳؍ فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ بینک کو توقع ہے کہ رواں سال تیل کی قیمتوں  میں ۴۲؍فیصد اضافہ ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر دیگر اشیاء کی قیمتوں میں۱۸؍ فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موازنہ۱۹۸۰ء کی دہائی کے تیل کے بحران سے کیا ہے۔عالمی بینک نے منگل کو جاری کی گئی اپنی نئی گلوبل اکنامک پراسپیکٹ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اضافی منفی اعشاریے عالمی معیشت کی۱۹۷۰ء کی دہائی کے  بحران  کے دور کا تجربہ دہرانے کے امکانات میں اضافہ کریں گے۔‘‘  ڈیوڈ مالپاس کے مطابق دنیا کے بیشتر حصوں میں کمزور سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کی سست رفتاری ممکنہ طور پر ایک پوری دہائی تک برقرار رہے گی۔مالپاس کا مزید کہنا تھا کہ اب بہت سے ممالک میں افراط زر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جبکہ رسد میں آہستہ آہستہ اضافے کی توقع ہے۔ اس صورتحال کے باعث افراط زر لمبے عرصےتک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔
 اس بحران کی وجہ کیا ہے؟
 عالمی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگ، چین میں کووڈ لاک ڈاؤن اور سپلائی چین میں خلل سے عالمی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے نے توانائی اور گندم کی عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا اور کورونا وائرس وبا  کے اثرات سے نجات پا رہی عالمی معیشت کو نشانہ بنایا۔  اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی قوت خرید متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔  ڈیوڈ مالپاس کے مطابق غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک میں اضافے اور یہاں تک کے قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK