پہلی مرتبہ چرچ گیٹ اسٹیشن کی پٹریاں بھی زیرآب آگئیں

Updated: August 08, 2020, 3:42 AM IST | Mumbai

پانی ہیریٹج عمارت اور ہیڈآفس میں داخل ہوگیا تھا۔ ایک ریلوے افسرکے مطابق ٹریک پر پانی بفراینڈ تک جمع ہوگیا جسے نکلنے میں کچھ وقت لگا۔جنوبی ممبئی میں سیلابی کیفیت پیدا ہونے کی وجہ کوسٹل روڈ کا تعمیراتی کام ہے۔ ماہرین کی رائے۔

Churchgate Railway Station. Photo: Inquilab
چرچ گیٹ ریلوے اسٹیشن ۔ تصویر: انقلاب

امسال موسلادھاربارش کے دوران جنوبی ممبئی میں غیرمتوقع طورپر سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ۔ جمعرات کو چرچ گیٹ ریلوے اسٹیشن کے اندر پٹریوں اور آثار قدیمہ میں شامل عمارت میں بھی پانی داخل ہوگیا۔ اس تعلق سے ایک ریلوے افسر کا کہنا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ پانی بفراینڈ تک جمع ہوگیا اور اسے نکلنے میں کچھ لگا۔ ریلوے افسران اور ٹرانسپورٹ کے ماہرین کی رائے کے مطابق ایک عرصہ سے زیرزمین میٹرو کا کام جاری ہے اور حال ہی میں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ کوسٹل روڈ کی تعمیر ہوسکتی ہے۔ ریلوے کے ایک سینئر افسر جو دیکھ ریکھ کے کام پر مامور ہے ، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’پٹریوں پر پانی بفراینڈ تک جمع ہوگیا تھا۔ میری یادداشت کے مطابق موسلادھار بارش کے دوران ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’پانی نکلنے میں کچھ وقت لگا لیکن یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام درہم برہم ہوا ہے۔‘‘ بارش کا پانی چرچ اسٹیشن کی عمارت اور ہیڈآفس میں داخل ہوگیا تھا۔ اس بارے میں ریلوے کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’اہم جگہوں پر پمپ رکھے گئے ہیں لیکن اس مرتبہ پانی کافی دیر تک جمع رہا۔ جنوبی ممبئی کو بھی اس طرح کی سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ماہرین کو شبہ ہے کہ کوسٹل روڈ کے تعمیراتی کام کے سبب سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے ماہر اجیت شینوئے نے کہا کہ ’’پانی گیرگام چوپاٹی اور ورلی سی فیس کی جانب بھی گیا۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ اس بات کا پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ کوسٹل روڈ کیلئے زمین کی کھدائی کے کام جو امسال شروع ہوا تھا ،کی وجہ سے تو نہیں ہوا ہے۔‘‘ ممبئی وکاس سمیتی کے کنوینر نندکمار سالوی جو بی ایم سی کے محکمۂ آب رسانی کے سابق انجینئر اور چیتالے کمیٹی کے سابق ممبر بھی ہیں ، نے کہا کہ’’ اس بارے میں فوری طورپر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا لیکن حالات کی ہرزاویے سے تفتیش کی ضرورت ہے جس میں بارش کی مقدار ، ہائی ٹائیڈ اور دیگر پہلو بھی شامل ہیں ۔‘‘ اس بارے میں میونسپل کمشنر اقبال سنگھ چہل نے کہا کہ ’’میں اس سے متفق نہیں ہوں لیکن ہم اس کا جائزہ لیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بغیر کسی سائنسی مطالعے اور ثبوت کے اس طرح کے بیانات دینا ٹھیک نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK