غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے جولائی میں ہندوستانی شیئر بازار میں زبردست واپسی کرتے ہوئے ایکویٹی میں تقریباً۲۰؍ہزار ۲۰۰؍ کروڑ روپے کی خالص سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ ۴؍ماہ سے فروخت کا جو سلسلہ جاری تھا وہ تھم گیا۔
غیر ملکی سرمایہ کی آمد سے شیئر بازار میں بہتری کی امید ہے-تصویر:آئی این این
غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے جولائی میں ہندوستانی شیئر بازار میں زبردست واپسی کرتے ہوئے ایکویٹی میں تقریباً۲۰؍ہزار ۲۰۰؍ کروڑ روپے کی خالص سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ ۴؍ماہ سے فروخت کا جو سلسلہ جاری تھا وہ تھم گیا۔
پرکشش ویلیوایشن، کارپوریٹ آمدنی میں بہتری اور عالمی دباؤ میں کمی کے باعث گھریلو شیئرسمیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری دوبارہ شروع ہوئی ہے۔جولائی کی اس خریداری سے بازار کو راحت ضرور ملی ہے، لیکن اس سے طویل عرصے سے جاری فروخت کے نقصان کی مکمل تلافی نہیں ہوئی ہے۔۲۰۲۶ءمیں اب تک غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی ایکویٹی مارکیٹ سے مجموعی طور پر ۲ء۵۴؍ لاکھ کروڑ روپے نکال چکے ہیں۔ یہ رقم ۲۰۲۵ء کے پورے سال کے دوران نکالی گئی ۱ء۶۶؍ لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی نکاسی سے بھی زیادہ ہے۔مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان کا نسبتاً مستحکم رہنا، لارج کیپ شیئرس کی مناسب ویلیوایشن اور کارپوریٹ آمدنی میں بہتری کے اشاروں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان ہندوستان کی کشش دوبارہ بڑھا دی ہے۔
جنوبی کوریا اور تائیوان کی بنا پر فائدہ
جیوجیت انویسٹ منٹس کے چیف انویسٹ منٹ حکمت عملی ساز وی کے وجے کمار نے بتایا کہ جنوبی کوریا اور تائیوان جیسی مارکیٹوں میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال اور ’’چِپ ٹریڈ‘‘ میں زیادہ ارتکاز کے خطرات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہندوستان جیسی نسبتاً مستحکم مارکیٹوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ وجے کمار کے مطابق ہندوستانی روپے کی مضبوطی اور استحکام کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے لارج کیپ حصے میں مناسب ویلیوایشن نے غیر ملکی سرمائے کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔