پہلی مرتبہ ایف پی آئی کے ذریعے ایک ہی ماہ میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی ایکویٹی فروخت کی گئی، گزشتہ ۴؍ ماہ سے پورٹ فولیو سرمایہ کار اپنا سرمایہ مسلسل نکال رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 30, 2026, 12:34 PM IST | Mumbai
پہلی مرتبہ ایف پی آئی کے ذریعے ایک ہی ماہ میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی ایکویٹی فروخت کی گئی، گزشتہ ۴؍ ماہ سے پورٹ فولیو سرمایہ کار اپنا سرمایہ مسلسل نکال رہے ہیں۔
مغربی ایشیا میں جاری بحران اور روپے میں جاری تیز گراوٹ کی وجہ سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) نے مارچ میں اب تک ایکویٹی میں ۱ء۱۳؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی خالص فروخت کی ہے۔ خالص فروخت لگائی گئی پونجی اورنکالی گئی پونجی کا فرق ہوتا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایف پی آئیز نے ایک مہینے میں اتنی بڑی رقم مارکیٹ سے باہر نکالی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں پر مارکیٹ پر بھروسہ کم ہوتا جارہا ہے کیوں کہ وہ گزشتہ ۴؍ ماہ سے اپنے سرمائے کی نکاسی ہی کررہے ہیں اور اس ماہ انہوں نے سب سے زیادہ ایکویٹی فروخت کی ہے۔
سینٹرل ڈیپازیٹری سروسیز کمپنی (سی ڈی ایس ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق، ایف پی آئی نے ہندوستانی بازار میں ایکویٹی میں اپنی سرمایہ کاری مارچ میں ایک لاکھ ۱۳؍ ہزار ۸۱۰؍ کروڑ روپے کی کمی کی ہے، جس کا اثر اسٹاک مارکیٹوں پر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ مارکیٹوں میں جو گراوٹ ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے۔ اس سے پہلے کبھی ایک ہی مہینے میں ایکویٹی میں ایف پی آئی سرمایہ کاری میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی گراوٹ درج نہیں کی گئی ہے۔ اب مارچ میں صرف ایک تجارتی دن رہ گیا ہے اور یہ منفی ریکارڈ بننا یقینی ہے۔ ایف پی آئی نے ڈیٹ میں خالص فروخت۹؍ ہزار ۶۸۷؍ کروڑ روپے اور میوچوئل فنڈز میں ۲؍ ہزار ۶۳۷؍ کروڑ روپے رہی۔ ہائبرڈ آلات میں انہوں نے کل ایک ہزار ۸۵۲؍ کروڑ روپے کی خالص سرمایہ کاری کی۔ ایکویٹی، ڈیٹ، میوچوئل فنڈز اور ہائبرڈ آلات سمیت، مارچ میں اب تک ہندوستانی کیپٹل مارکیٹوں میں ایف پی آئی کی کل خالص نکاسی ایک لاکھ ۲۴؍ ہزار ۲۸۱؍ کروڑ روپے رہی ہے اور اس علاقے میں بھی ریکارڈ ٹوٹنا طے ہے۔
یاد رہے کہ کورونا کے دور میں مارچ ۲۰۲۰ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایف پی آئی نے ہندوستانی کیپٹل مارکیٹ سے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی خالص نکاسی کی ہے۔ جب مارچ ۲۰۲۰ء میں پہلی بار لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا، تب ایف پی آئی نے مارکیٹ سے ایک لاکھ ۱۸؍ ہزار ۲۰۳؍ کروڑ روپےکی خالص فروخت کی تھی۔ اس معاملے میں بھی نیا ریکارڈ قائم ہونا تقریباً یقینی ہے۔
اس بارے میں مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاسی و معاشی حالات سرمایہ کاروں کے سرمایہ لگانے کے فیصلوں پر پوری طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس وقت ایران جنگ جاری ہے اور غالب اندازہ یہی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اس کے جلد ختم نہ ہونے کے امکانات کی وجہ سے اتنی تیزی کے ساتھ مارکیٹ چھوڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ہندوستان مارکیٹ کی بات نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کا یہی رویہ رہا ہے۔