Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’برادران وطن سے تعلقات استوار کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے‘‘

Updated: March 30, 2026, 12:46 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

’مہاراشٹر میں امت مسلمہ کے حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘ عنوان پر علماء اور عمائدین شہر کی خصوصی نشست۔ ایس آئی آر پر خصوصی رہنمائی کی گئی۔

Participants at a special session organized by Jamaat-e-Islami at Maloney`s Golden Hall. (Photo: Inquilab)
مالونی کے گولڈن ہال میں جماعت اسلامی کی جانب سے منعقدہ خصوصی نشست میں شرکاء۔ (تصویر: انقلاب)

’مہاراشٹر میں امت مسلمہ کے حالات اور ہماری ذمہ داریاں ‘ عنوان پر جماعت اسلامی کی جانب سے علماء اور عمائدین شہر کے ساتھ مالونی مہاڈا گولڈن ہال میں اتوار کی سہ پہر خصوصی نشست منعقد کی گئی جس میں جماعت اسلامی مہاراشٹر کے صدر مولانا الیاس خان فلاحی نے خاص طور پر شرکت کی۔

مولانا فلاحی نے ملک میں نفرت، شرانگیزی اور مسلم مخالف مہم کے حوالے سے کہا کہ اس کے خلاف مہم چلانا اور ذہن سازی کرنا کسی ایک جماعت کا کام نہیں، نہ ہی ان فتنوں کا تنہا مقابلہ ممکن ہے۔ اس کے لئے ہمیں الگ الگ سطح پر کام کرنا ہوگا۔ اس میں ہم برادران وطن سے تعلق استوار کریں، پریس کانفرنس کی جائے، سیاسی سطح پر مستحکم نمائندگی ہو اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے بھی اس جانب توجہ دلائی جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل نفرت پھیلائی جارہی ہے مگر ہمیں ہرسطح پر کوشش کرنی ہوگی۔ اس ضمن میں مولانا نے ستارا میں ایک مسلم نوجوان کے قتل اور اس کے تعلق سے اے پی سی آر کے ذریعے کی گئی کامیاب قانونی کوشش کا تذکرہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: سرکاری زمینوں پر۲۰۱۱ء تک کی تعمیرات کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان

مولانا فلاحی نے مہاراشٹر میں مسلمانوں کی اجتماعی صورتحال کے تناظر میں کہا کہ ریاست مہاراشٹر میں مسلمان حوصلے کے ساتھ باوقار انداز میں رہ رہے ہیں اور وہ قطعی خائف نہیں ہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ مہاراشٹر میں بھی شمالی ہندوستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر اس کے لئے ہمیں بیدار رہنا ہوگا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ریاست میں مسلمانوں کا سیاسی شعور بیدار ہوجائے تو وہ کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں اور پھر ریاست میں سیاسی منظر نامہ بالکل مختلف ہوگا۔ اسی طرح مہاراشٹر کی ایک سچائی یہ بھی ہے کہ یہاں بسنے والے برداران وطن کا بڑا طبقہ متعصب نہیں ہے یا یہ کہ اس کے اندر تعصب اس درجے کا نہیں ہے۔ یہ بات میں مختلف علاقوں کے دورے اور ملاقاتوں کی روشنی میں کررہا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہمارا مشن ہے کہ یہ ملک نفرت، انتشار، بدعنوانی اور کرپشن سے پاک ہو۔

صباح الدین خان کے ایک سوال کے جواب میں کہ اب ہم علاقے کی سطح پر اس امت کا وہ رعب نظر نہیں آرہا ہے، آخر اس کی کیا وجہ ہے۔ اس پر مولانا نے کہا کہ قوموں کی حیات میں مختلف ادوار آتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم اجتماعی مفاد میں کس قدر جی رہے ہیں۔ آپ کووڈ۱۹؍ کا دور دیکھ لیجئے کہ جب مسلمان خدمت کے میدان میں اترے تو چہار جانب سے ان کی ستائش کی گئی۔ ہمیں خیرالناس من ینفع الناس کے حضور اکرمؐ کے پیغام پر عملی سطح پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان: برسر اقتدار پارٹی کی کارپوریٹر نے بدعنوانی کو بے نقاب کیا

اس موقع پر مولانا نوشاد احمد صدیقی، اکبر شیخ اور شمیم خان نے سوالات کئے۔

مولانا فلاحی نے کہا کہ ہم ایس آئی آر کے تعلق سے کام کریں، غلط فہمی پیدا نہ ہونے دیں، گھبرائیں نہ، بی ایل او کی مدد کریں، ہمارے نوجوان مساجد کے باہر ٹیبل لگاکر بیٹھیں اور لوگوں کی رہنمائی کریں، اس سے یہ کام بآسانی ہوجائے گا۔ فیملی میپنگ کا کام محض دو سے تین منٹ میں ہوگا اور بی ایل او کی خدمات حاصل کریں، ان کے بغیر نہ کریں کیونکہ بی ایل او حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ کردہ ذمہ دار افراد ہیں اور فی بی ایل او کو۷۰۰؍تا ۹۰۰؍ووٹر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ محلے کی سطح پر چھوٹی چھوٹی نشستیں منعقد کرکے رہنمائی کریں۔ اگر اجتماعیت کے ساتھ اور ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے یہ کام کیا جائے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ماہ کے اندر ایس آئی آر کام پورا کرلیا جائے گا۔

نشست میں موجود وسیم سر جو گزشتہ دو الیکشن میں بی ایل او رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ پہلے ۱۰؍ اپریل تک لوگوں کو خود فیملی میپنگ کا موقع ہے، اس کے بعد بی ایل او گھر گھر جائیں گے۔

نشست میں اخیر میں یہ پیغام دیا گیا کہ ہم اجتماعی شعور بیدار کریں، ایک دوسرے کی کمزوریوں کے ازالے کی کوشش کریں، اختلافات سے بچیں، سیاسی شعور کی آبیاری کریں ، حالات سے باخبر رہیں اور ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی طاقت کو بڑھائیں۔ ان شاء اللہ حالات میں مثبت تبدیلی یقینی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK