ہلاکتوں میں اضافہ ،بنکر میں چھپنے کیلئے بار بار سائرن بجنے سے شہریوں کا براحال، نقصانات کو مخفی رکھنے کی کوششیں۔
ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی تفتیش کار جائزہ لے رہے ہیں- تصویر:آئی این این
ایران کی جانب سے داغی جانے والی میزائلوں کی وجہ سے تل ابیب سے حیفا اور دیمونا تک اسرائیل کے ہر شہر میں وقفہ وقفہ سے بجنےوالے سائرن نےافراتفری مچارکھی ہے۔ آئرن ڈوم جیسے فضائی دفاعی نظام کے باوجود نہ صرف یہ کہ ایرانی میزائل کامیابی کے ساتھ اسرائیل میں اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں بلکہ پیر کو خود اسرائیل نے ہلاکتوں میں اضافہ کا اعتراف کیا ہے۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس نے ایرانی حملے میں ایک شخص کی موت اور کم از کم ۲؍ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم صہیونی ریاست میں جنگ سے متعلق رپورٹنگ پر فوج کی جانب سے جس طرح سینسر شپ نافذ کی گئی ہے،اس کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ حقیقی صورتحال اس سے مختلف ہے جو دنیا کو دکھائی جارہی ہے۔ اسرائیل میں نہ صرف میڈیا کو پابندیوں کا سامنا ہے بلکہ عام شہریوں کیلئے بھی میزائل حملوں کے بعد کے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ممنوع ہے۔ اس کے باوجود جو خبریں چھن چھن کر آرہی ہیں ان سے زمینی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ اسرائیل میں ۲؍ہزار سے زیادہ افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا جا چکا ہے۔
ان میں سے متعدد کی حالت نازک ہونے کی اطلاع ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ایران کی سپر سونک خیبر شکن میزائلیں نہ صرف تل ابیب کے آئرن ڈوم کو غچہ دیکر اپنے اہداف تک پہنچ رہی ہیں بلکہ بنکروں تک کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق پیر کو بھی اسرائیل کے کئی علاقوں میں وقفے وقفے سے سائرن بجتے رہے ۔ پچھلے مواقع کے برعکس اس بار ایرانی حملے اسرائیل کے جنوبی اور شمالی دونوں حصوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سائرن تل عراد اور دیمونا کے علاقوں میں بھی بجے جو نیگیو کے علاقے میں واقع ہیں، جہاں جوہری تحقیقاتی مرکز ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی حصے میں مغربی نیگیو میں بھی سائرن سنائی دیئے۔ شمالی علاقوں میں بھی حیفا سے لے کر طبریہ، یزرعیل ویلی، شہر بیسان اور لوئر گلیل تک سائرن بجے۔اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان اور انتباہ کے مطابق یہ سائرن ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد بجائے گئے۔
عام طور پر پہلے ابتدائی انتباہ جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد چند منٹ عموماً پانچ سے چھ منٹ، کبھی اس سے زیادہ کے بعد نشانہ بننے والے علاقوں میں سائرن بجنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد عموماً دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جو یا تو میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے یا میزائل کے زمین پر گرنے کے باعث ہوتی ہیں۔