مری سانحہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل ، مختلف ز اویوں سے تفتیش کی ہدایت

Updated: January 11, 2022, 8:19 AM IST | islamabad

پاکستان میں گزشتہ دنوں مشہور سیاحتی مقام مری میں برفباری کے سبب پیش آئے المناک سانحہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔

Road cleared in Murree (Agency)
مری میں اب راستہ صاف کر دیا گیا ہے ( ایجنسی)

 پاکستان میں گزشتہ دنوں مشہور سیاحتی مقام مری  میں برفباری کے سبب پیش آئے المناک سانحہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ حالانکہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بند گاڑیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس تیار ہونے کی وجہ سے لوگوں کی اموات ہوئی ہیں۔ ادھر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا ہے کہ واقعے کی جلد از جلد تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔  یاد رہے کہ  ۷؍ جنوری کو مری میں برفباری کے سبب کئی گاڑیاں راستوں میں پھنس گئی تھیں اور ان میں موجود  ۲۱؍ سیاحوں کی موت ہو گئی تھی۔   
  حالانکہ اس سانحہ میں ۲۱؍ لوگوں کی موت ہوئی ہے لیکن  یہ واقعہ بہت بڑاہے جس میں اگر وقت رہتے فوج نہ طلب کی گئی ہوتی تو سیکڑوں جانیں تلف ہو سکتی تھیں۔  فی ا لحال جورپورٹ پنجاب صوبے کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پیش کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ۷؍ جنوری تک ایک لاکھ ۶۲؍ ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں اور ۷؍ جنوری کو ۱۶؍ گھنٹوں میں چار فٹ برف پڑی۔ اسی اثنا میں۱۶؍ مختلف مقامات پر درخت گرنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور راستے بند ہوگئے۔ برف باری کے دوران گاڑیوں میں بیٹھے۲۲؍فراد کاربن مونو آکسائیڈ سے ہلاک بھی ہوئے۔ یاد رہے کہ ۷؍ جنوری کو ۲۱؍ لوگوں کی  موت ہوئی تھی۔ ایک شخص کی موت ایک روز بعد ہوئی۔ 
  پیر کو صوبائی حکومت نے ایک ۴؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس واقعے کی تفصیلی  طور پر تفتیش کرے گی۔کمیٹی مختلف سوالات کے جواب تلاش کرے گی اور مسقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کرے گی۔کمیٹی کے قیام کیلئے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے داخلہ ظفر نصر اللہ کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ دو صوبائی سیکریٹری علی سرفراز، اسد گیلانی اور محکمۂ پولیس کے اے آئی جی فاروق مظہر بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی ۷؍ روز میں تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی کے اراکین چند سوالات کے جواب تلاش کرے گی۔
  ان میں اہم سوالات یہ ہیں کہ محکمۂ موسمیات کی وارننگ کے باوجود جوائنٹ ایکشن پلان کیوں نہیں تیار کیا گیا؟ کیا تمام سیاحوں کیلئے ایڈوائزری جاری کی گئی تھی یا کوئی وارننگ دی گئی تھی؟مری کے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے تھے؟ کیا ٹریفک (گاڑیوں) کی تعداد کوشمار کیا گیا اور جب گاڑیاں بڑھ گئیں تو انہیں روکا کیوں نہیں گیا؟کمیٹی اس سوال کا جواب بھی تلاش کرے گی کہ کیا کسی بحران کیلئے کوئی پلان ترتیب دیا گیا تھا؟ کیا کوئی کنٹرول روم بنایا گیا تھا؟اسی طرح کیا مقامی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤس کے ساتھ ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے رابطہ قائم کیا گیا؟کمیٹی یہ بھی جاننے کی کوشش کرے گی کہ ریسکیو آپریشن کتنا کامیاب رہا اور کتنی گاڑیوں کو نکالا گیا؟ اس بحران میں کیا کمی  رہ گئی اور کوتاہیاں کن کن افسران کی تھیں۔
  عمران خان کی جلداز جلد رپورٹ  پیش کرنے کی ہدایت
  اس دورا ن وزیراعظم عمران خان کی صدارت  میں کابینی وزراء اور حکام کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں دیگر موضوعات کے علاوہ مری سانحہ کے تعلق سے بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی ۔ پاکستان کے وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہ مقامی انتظامیہ کی تعریف کی اورپولیس کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں نے بہت جلد حالات پر قابو پالیا ورنہ معاملہ اور سنگین ہو سکتا تھا۔ وزیر اعظم  نے تمام احوال سننے کے بعد  ہدایت دی کہ حکام جلد از جلد  اس معاملے کی تحقیقات کرکے حقائق کو سامنے لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سارے معاملے کو جدید طریقے سے ہینڈل کیا جائے اور خامیوں کو دور کیا جائے ۔

pakistan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK