عثمان خواجہ نے فلسطینی حقوق اور انسانی ہمدردی کے دیگر مقاصد کیلئے اپنی حمایت پر ہونے والے تنازعات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانب سے انہیں صرف کرکٹ تک محدود رہنے کے مشورے ملتے ہیں، جو ان کی شناخت کو نظر انداز کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 5:02 PM IST | Sydney
عثمان خواجہ نے فلسطینی حقوق اور انسانی ہمدردی کے دیگر مقاصد کیلئے اپنی حمایت پر ہونے والے تنازعات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانب سے انہیں صرف کرکٹ تک محدود رہنے کے مشورے ملتے ہیں، جو ان کی شناخت کو نظر انداز کرتے ہیں۔
آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ایشیز سیریز کے پانچویں ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ اپنے الوداعی خطاب میں انہوں نے کیریئر کے دوران پیش آنے والے نسلی تعصب، امتیازی سلوک اور سیاسی و انسانی بنیادوں پر خیالات کے اظہار کے باعث ملنے والے شدید ردِعمل پر کھل کر بات کی۔
سڈنی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان خواجہ نے کہا کہ اپنے کیریئر کے دوران انہیں اکثر’مختلف سلوک‘ کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ ان کی رنگت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”میں ایک غیر سفید (coloured) کرکٹر ہوں۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ آسٹریلوی ٹیم قومی فخر کا باعث ہے، لیکن ان کے ذاتی تجربات ہمیشہ مساوی سلوک کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کمر کی تکلیف کے باعث میچ چھوڑنے پر ہونے والی تنقید کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دیگر کھلاڑیوں کی عدم دستیابی پر اس طرح کے سوالات نہیں اٹھائے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: دل تھام لیجئے ،۲۰۲۶ء میںکھیلوں کے کئی بڑے ایونٹ ہونے والے ہیں!
عثمان خواجہ آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلمان کرکٹر ہیں۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے بتایا کہ ان کی جانچ پڑتال اکثر نسلی دقیانوسی تصورات میں بدل جاتی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ ”ایک بار جب نسلی لیبل لگ جائیں، چاہے وہ پاکستانی ہو، ویسٹ انڈین یا دیگر غیر سفید فام کھلاڑی، تو ہمیں خود غرض یا سست قرار دے دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ پرتھ ٹیسٹ سے قبل گولف کھیلنے کی وجہ سے وہ زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے مقابلے ”دوہرے معیار“ کا مظہر قرار دیا۔
تجربہ کار بلے باز نے کہا کہ انہوں نے اس لئے آواز اٹھائی تاکہ مستقبل کے کھلاڑیوں کو اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ اگلے عثمان خواجہ کا سفر مختلف ہو۔“ خواجہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ وہ ’ریس کارڈ‘ (نسلی کارڈ) استعمال کر رہے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: سرفراز کی طوفانی سنچری، سلیکٹروں کی توجہ پھر مبذول کی
عثمان خواجہ نے فلسطینی حقوق اور انسانی ہمدردی کے دیگر مقاصد کیلئے اپنی حمایت پر ہونے والے تنازعات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانب سے انہیں صرف کرکٹ تک محدود رہنے کے مشورے ملتے ہیں، ان مشوروں میں ان کی شناخت کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ ۵ سال کی عمر میں پاکستان سے ہجرت کرکے آسٹریلیا آئے تھے، اس لئے جب اسلام یا امیگریشن پر حملے ہوتے ہیں تو وہ اسے ذاتی محسوس کرتے ہیں اور اس پر بولنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
اپنے شاندار کیریئر کے اختتام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی شرائط پر رخصت ہو رہے ہیں۔ عثمان خواجہ نے ۸۷ ٹیسٹ میچوں میں ۴۹ء۴۳ کی اوسط سے ۶۲۰۶ رنز بنائے، جن میں ۱۶ سنچریاں شامل ہیں۔ انہیں ۲۰۲۳ء میں ’آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر‘ قرار دیا گیا تھا۔ کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو ٹوڈ گرین برگ نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آسٹریلیا کے بااثر ترین بلے بازوں میں سے ایک قرار دیا جن کا اثر کھیل کے میدان سے کہیں زیادہ سماجی میدان میں رہا۔