Updated: October 29, 2026, 2:01 PM IST
| Washington
امریکیوں کی طاقتِ خرید کا یہ بحران اگلے ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور سیینا یونیورسٹی کے ایک مشترکہ سروے سے معلوم ہوا کہ ۶۹ فیصد ووٹرز ٹرمپ کے دور میں زندگی کے بڑھتے اخراجات سے نالاں ہیں، جبکہ ۷۳ فیصد امریکی گیس کی قیمتوں سے نمٹنے کے ان کے طریقہ کار کو ناپسند کرتے ہیں۔
مالیاتی فرم ’سیلف فنانشل‘ کے ذریعے اگست میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق، نصف امریکیوں نے اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اپنی خوراک میں کمی لانے یا ایک وقت کا کھانا چھوڑنے کی اطلاع دی ہے۔ وفاقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ستمبر ۲۰۲۰ء سے ستمبر ۲۰۲۶ء تک اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ۲۸ فیصد کا اوسط اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران، گوشت کے قیمہ کی قیمت میں ۶۷ فیصد اور کافی کی قیمتوں میں ۱۰۸ فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تحقیق میں نوٹ کیا گیا کہ ”خوراک کی بڑھتی ہوئی لاگت کا اثر، لوگوں کی خریداری کی ٹوکریوں میں شامل اشیاء تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔“ سروے میں شامل جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ گروسری کی بلند قیمتوں نے فٹنس، خوراک یا نیند کے مقابلے میں ان کی ذہنی صحت اور تناؤ کو زیادہ متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وزیر کینیڈی کا دعویٰ: ۵۰ کروڑ عربوں نےسائنس میں کچھ کام نہیں کیا؛ عالمی سطح پر تنقید کا سامنا
امریکیوں کی طاقتِ خرید کا یہ بحران اگلے ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور سیینا یونیورسٹی کے ایک مشترکہ سروے سے معلوم ہوا کہ ۶۹ فیصد ووٹرز ٹرمپ کے دور میں زندگی کے بڑھتے اخراجات سے نالاں ہیں، جبکہ ۷۳ فیصد امریکی گیس کی قیمتوں سے نمٹنے کے ان کے طریقہ کار کو ناپسند کرتے ہیں۔
سیینا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈان لیوی نے کہا کہ ووٹرز کے ٹرمپ کے تئیں اس عدم اطمینان نے اہم امور پر ان کے اعتماد کو ڈیموکریٹس کی طرف موڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ووٹرز ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں سے غیر مطمئن ہیں لیکن وہ معیشت، زندگی کی لاگت، گیس کی قیمتوں، حفظانِ صحت، بدعنوانی، بیرونی جنگوں اور اے آئی پر ۸ سے ۲۰ پوائنٹس کے فرق سے بہتر کام انجام دینے کیلئے ڈیموکریٹس کو زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: تمام متعلقہ دستاویزات میں اے آئی کی اصطلاح پر پابندی لگائی جائےگی: ٹرمپ
گروسری کے علاوہ، امریکیوں کو وسیع تر مالیاتی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ گیس بڈی (GasBuddy) کے مطابق، ۲۰۲۶ء میں گیس کی قیمتیں کسی بھی سابقہ سال کے مقابلے میں زیادہ دن ۴ ڈالر سے اوپر رہی ہیں۔ حال ہی میں جاری کئے گئے وفاقی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صدر جو بائیڈن کے مقابلے ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں اوسط ان لیڈڈ (unleaded) گیس کی قیمتیں زیادہ رہی ہیں۔
گولڈمین ساخس کے ستمبر کے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران گروسری اور گیس جیسی بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ۵۰ ہزار ڈالر یا اس سے کم آمدنی والے ۶۰ فیصد سے زیادہ گھرانوں کو ایک تنخواہ سے دوسری تنخواہ پر گزر بسر کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور ان کی بچت کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیا ہے۔