• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ایران کے پر دوبارہ جنگ کے خدشات، اسرائیل میں۱۰؍ فوجی کارگو طیارے تعینات

Updated: October 30, 2026, 4:15 PM IST | Tel Aviv

امریکہ نے ایران پر دوبارہ جنگ کے خدشات کے درمیان اسرائیل میں۱۰؍ فوجی کارگو طیارے تعینات کر دیے، اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارے صحرائے نقب میں واقع اووڈا اور نواتیم فضائی اڈوں پر اترے ہیں، جبکہ دیگر طیارے اردن، سعودی عرب اور قطر بھیجے گئے ہیں۔

US military cargo plane. Image: X
امریکی فوجی کارگو جہاز۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے خبر دی ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی حملے کی تیاریوں کے درمیان امریکہ نے جنوبی نقب کے علاقے میں اسرائیلی فضائی اڈوں پر۱۰؍ فوجی کارگو طیارے منتقل کیے ہیں۔نشریاتی ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ یہ طیارے اووڈا اور نواتیم فضائی اڈوں پر اترے، جبکہ اضافی امریکی فوجی طیارے مبینہ طور پر اردن، سعودی عرب اور قطر کے اڈوں پر بھیجے گئے۔کان کے مطابق یہ طیارے امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ بلس سے روانہ ہوئے تھے، جہاں امریکی فوج کے سب سے بڑے فضائی دفاعی مراکز میں سے ایک واقع ہے، جس میں انٹرسیپٹر میزائلوں اور فضائی دفاعی بیٹریوں سے وابستہ تنصیبات شامل ہیں۔بعد ازاں اس تعیناتی کی فوری طور پر امریکہ کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی، اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ ان طیاروں میں کیا سامان تھا یا آیا واشنگٹن نے ایران کے خلاف حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات

ایک اسرائیلی اہلکار نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ اپنی فوجی تیاریوں میں قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔اہلکار نے کہا، ’’اسرائیل اور امریکہ قریبی تال میل کر رہے ہیں، اور اگرچہ اس معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، لیکن امریکی اور اسرائیل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔‘‘اہلکار نے کسی بھی ممکنہ فیصلے کی نوعیت یا وقت کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی۔جبکہ اس سے قبل رواں ہفتے میں کان نے رپورٹ دی تھی کہ واشنگٹن نے خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف مختصر اور محدود فوجی حملوں کے امکان کے بارے میں خبردار کیا تھا۔نشریاتی ادارے کے مطابق، امریکی فوج نے خلیج کے خطے میں اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام بھی منتقل کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے بھر کے اڈوں پر تعینات امریکی فوجیوں کو ممکنہ فوجی کشیدگی کے پیش نظر احتیاطی طور پر وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو بھر رہی ہیں، اور نومبر میں ایک اضافی طیارہ بردار بحری جہاز اور میرین کور یونٹ کی آمد متوقع ہے۔مبینہ طور پر یہ کمک مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تقریباً 20 امریکی جنگی جہازوں کے ساتھ شامل ہوگی۔
علاحدہ طور پر، وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل بریڈ کوپر نے ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے آپشن کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔ اخبار نے اشارہ دیا کہ یہ بریفنگ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ امریکہ بڑے فوجی حملے شروع کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہے گی: جے ڈی وینس

ڈیموکریٹک امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ انہیں اور کئی دیگر سینیٹرز کو ایران پر حملے کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جسے انہوں نے ’’پاگل پن‘‘ قرار دیا۔مرفی نے خبردار کیا کہ اس طرح کا اقدام تباہ کن کشیدگی کا باعث بنے گا اور قانون کی حکمرانی کے لیے امریکہ کے عزم کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر جنگ شروع کی، جس پر تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو ڈرون اور میزائل سے نشانہ بنایا،جس کے بعد اپریل میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔تاہم حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران نے جون میں آبنائے ہرمز سے آزادیِ نیویگیشن سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی سے متعلق اختلافات پر اس پر عمل درآمد رکا ہوا ہے۔تازہ ترین فوجی تعیناتی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی کے بارے میں نئے خدشات کے درمیان سامنے آئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK