Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا ۱۰۰؍ سال کی عمر میں انتقال

Updated: November 30, 2023, 7:27 PM IST | Washington

رچرڈ نکسن اورجیرالڈ فورڈ کے دور صدارت میں امریکی وزارت خارجہ کی کمان سنبھالنے والے مشہور سیاست داں ہنری کسنجر کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر ۱۰۰؍ سال تھی۔ ہنری کسنجر امریکہ کے ۵۶؍ویں سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے۔ باقاعدہ سیاست میں داخل ہونے سے قبل وہ ایک قابل ذکر سفارت کار تھے۔

Former US Secretary of State Henry Kissinger. Photo: INN
امریکی سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر۔ تصویر: آئی این این

رچرڈ نکسن اورجیرالڈ فورڈ کے دور صدارت میں امریکی وزارت خارجہ کی کمان سنبھالنے والے مشہور سیاست داں ہنری کسنجر کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر ۱۰۰؍ سال تھی۔ ہنری کسنجر امریکہ کے ۵۶؍ویں سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے۔ باقاعدہ سیاست میں داخل ہونے سے قبل وہ ایک قابل ذکر سفارت کار تھے۔ ان کا انتقال ریاست کنیکٹی کٹ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہوا۔امریکی میڈیا کے مطابق ہنری کسنجر آخری وقت تک انتہائی فعال رہے۔اس دوران  وہ نہ صرف وائٹ ہاؤس میں ہونے والی مختلف میٹنگوںمیں شریک ہوتے رہے بلکہ  بیرون ملک کے دورے بھی کرتے رہے۔ سال رواں میں ان کے بیجنگ دورے نے عالمی سطح پر کافی سرخیاں بٹوری تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی اور بین الاقوامی معاملات سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس دورے کی اہمیت اسلئے بھی بہت زیادہ تھی کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان سیاسی سطح پرکافی تلخیاں پائی جاتی ہیں۔ کچھ اسی طرح کے حالات ۱۹۷۰ء کی دہائی میں بھی تھے، جب چین اور امریکہ کے درمیان ایک طرح سے سرد جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ اُن دنوں رچرڈ نکسن کےعہد صدارت میں ہنری کسنجر  وزیر خارجہ تھے ۔ان حالات میں انہوں نے چین کا دورہ کیا تھا جس کی وجہ سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی راہیں کھلی تھیں۔ امریکہ اور روس کےدرمیان ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے سے متعلق بات چیت کا سہرا بھی انہیں کے سر بندھتا ہے۔اسی طرح اسرائیل کے تئیں عرب ممالک کو جھکانے کا ذمہ دار بھی ہنری ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔  پیرس امن معاہدے میں ان کا کلیدی کردار رہا تھا۔
 ہنری کسنجر نے کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں سفارتکاری اور قیادت سے متعلق کئی اہم امور پر انہوں نے بہت کھل کر گفتگو کی ہے۔ ایک طرف جہاں ان کے نام بہت ساری کامیابیاں درج ہیں، وہیں بہت سارے تنازعات کیلئے بھی انہیں جانا جاتا ہے۔ بالخصوص ۱۹۷۳ء میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ میں انہوں نے ہندوستان کی کھل کر مخالفت کی تھی۔  سب سے زیادہ تنازع اُس وقت ہوا تھا،۱۹۷۳ء میں جب انہیں ویت نام کے سفارت کار ’لی ڈک تھو‘ کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ’لی ڈک تھو‘ نے انعام لینے سے انکار کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK