تمل سنیما کی سب سے زیادہ منتظر فلموں میں سے ایک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امیزون پرائم ویڈیو نے فلم ’’جن نائیگن‘‘ کے لیے کیے جانے والے ۱۲۰؍ کروڑ روپے کے او ٹی ٹی معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 3:52 PM IST | Chennai
تمل سنیما کی سب سے زیادہ منتظر فلموں میں سے ایک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امیزون پرائم ویڈیو نے فلم ’’جن نائیگن‘‘ کے لیے کیے جانے والے ۱۲۰؍ کروڑ روپے کے او ٹی ٹی معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
تمل سنیما کی سب سے زیادہ منتظر فلموں میں سے ایک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امیزون پرائم ویڈیو نے فلم ’’جن نائیگن‘‘ کے لیے کیے جانے والے ۱۲۰؍ کروڑ روپے کے او ٹی ٹی معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ یہ فلم تھلاپتھی وجے کی سیاست میں مکمل طور پر آنے سے پہلے آخری فلم سمجھی جا رہی ہے۔ اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے اس فیصلے کی وجہ فلم کی ریلیز میں کئی ماہ سے جاری تاخیر بتائی جا رہی ہے، جو سینسر بورڈ کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ سینسر بورڈ ابھی تک فلم کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکا۔
تھلاپتھی وجے کی آخری فلمی پیشکش کے طور پر سمجھی جانے والی اس فلم کی پروڈکشن کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امیزون پرائم ویڈیونے فلم فلم ’’جن نائیگن‘‘ کے ڈیجیٹل حقوق کے لیے کیا گیا اپنا بڑا معاہدہ باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسٹریمنگ پلیٹ فارم نے تقریباً ۱۲۰؍ کروڑ روپے میں او ٹی ٹی حقوق حاصل کیے تھے، لیکن علاقائی میڈیا رپورٹس اور ساکنلک کے مطابق فلم کی مسلسل تاخیر کی وجہ سے یہ معاہدہ ختم ہو گیا۔ یہ تاخیر کئی مہینوں سے اس پروجیکٹ کو متاثر کر رہی تھی۔ ایچ وینوتھ کی ہدایتکاری اور کے وی این پروڈکشنز کی پروڈیوس کردہ فلم فلم ’’جن نائیگن‘‘ اس سال کی سب سے زیادہ متوقع تمل فلموں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ وجے کی فلمی دنیا سے الوداعی فلم ہے، جس کے بعد وہ مکمل طور پر سیاست میں قدم رکھیں گے تاہم، فلم کی اہمیت بھی ان قانونی اور انتظامی مشکلات کو دور نہیں کر سکی جن کی وجہ سے امیزون کو اپنی سرمایہ کاری پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔
سینسرشپ تنازع اور ریلیز میں تاخیر
معاہدہ ختم ہونے کی بنیادی وجہ فلم کا سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی ) کے ساتھ جاری تنازع بتایا جا رہا ہے۔ ابتدا میں فلم کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ دیکھا گیا تھا، لیکن ایک اعتراض نے صورتحال بدل دی۔لائیو لا کے مطابق بورڈ کے ایک رکن نے فوجی نشانات اور سماجی بے چینی کو دکھانے والے مناظر پر اعتراض کیا، جو فلم کی کہانی کا اہم حصہ ہیں۔ اس شکایت کے بعد سی بی ایف سی کے چیئرمین نے فلم کو دوبارہ جائزہ لینے کے لیے ریوائزنگ کمیٹی کے پاس بھیج دیا۔ان تنازعات کی وجہ سے فلم کے پروڈیوسرزپونگل ۲۰۲۶ء پر طے شدہ ریلیز ڈیڈ لائن پوری نہ کر سکے، جو امیزون کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا اہم حصہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ہالی ووڈ میں کام کی کمی، اداکار اب طبی تربیت میں ’’مریض‘‘ بن رہے ہیں
رپورٹس کے مطابق اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے معاہدے میں شرط تھی کہ فلم کو ایک مخصوص مدت کے اندر تھیٹر میں ریلیز کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل پریمیئر کی تشہیر زیادہ مؤثر ہو سکے۔ جب پروڈیوسرز قانونی اور سینسر مسائل کی وجہ سے نئی ریلیز تاریخ دینے میں ناکام رہے تو امیزون نے معاہدے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھئے:میسی کی موجودگی میں ٹرمپ نے رونالڈو کی تعریف کی
فلم کو۹؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ریوائزنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جانا تھا، لیکن انڈیا ٹوڈے کے مطابق ایک کمیٹی رکن کی بیماری کی وجہ سے آخری وقت میں اس اسکریننگ کو منسوخ کر دیا گیا۔ سی بی ایف سی نے ابھی تک نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم انڈسٹری ذرائع اور اسکرین کی رپورٹس کے مطابق اب اسکریننگ ۱۷؍ مارچ۲۰۲۶ءکو متوقع ہے۔ اس نشست کو فلم کے لیے فیصلہ کن مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔