• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پراظہار تشویش

Updated: October 03, 2026, 12:11 PM IST | Paris

فرانس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر اظہار تشویش کیا ہے، یہ طلبہ اسکولوں میں بہتر سہولیات ، معلموں کی کمی کے مطالبے کے ساتھ مظاہرہ کر رہے ہیں،انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ نابالغوں کو تحفظ دیا جانا چاہیے، لاٹھیوں سے پیٹا نہیں جانا چاہیے۔

A photo of police action against students. Photo: X
طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس

ایمنسٹی انٹرنیشنل فرانس نے بہتر تعلیمی حالات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جوکئی دنوں سے جاری ہے،کے دوران فرانسیسی ہائی اسکول کے طلبہ کے خلاف پولیس تشدد کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ایمنسٹی نے جمعرات کو امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہائی اسکول کے طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی تصاویر انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان میں سے بہت سے نابالغ، بچے ہیں۔ انہیں تحفظ دیا جانا چاہیے، لاٹھیوں سے پیٹا نہیں جانا چاہیے۔‘‘مزید برآں گروپ نے گرفتاریوں کی بڑی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا جبکہ یہ تسلیم کیا کہ کچھ مظاہرین کی طرف سے بھی تشدد ہوا ہے، جسے اس نے ناقابل قبول قرار دیا۔ایمنسٹی نے مزید کہا، ’’لیکن ان حالات میں بھی، گرفتاریوں کے دوران بھی، طاقت کا استعمال متناسب رہنا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کے بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان سیکڑوں ہائی اسکول بند

ایمنسٹی نے مزید رپورٹ کیا کہ پیر کو ایک۱۴؍ سالہ لڑکے کو جبڑے پر گرینیڈ لگا اور اس کے نتیجے میں اس کے کئی دانت ضائع ہو گئے۔ بعد ازاں تنظیم نے کہا کہ گرینیڈ لانچرز صرف بڑے پیمانے پر تشدد کی صورت میں استعمال کیے جانے چاہئیں، جب کوئی دوسرا ذریعہ دستیاب نہ ہو، اور کبھی بھی براہ راست لوگوں پر فائر نہیں کیا جانا چاہیے۔
علاوہ ازیں ایمنسٹی نے یہ  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں گلا گھونٹنے کی تکنیک ممنوع ہے رپورٹ کیا کہ منگل کو ایک۱۴؍ سالہ لڑکی کو اس کے ہائی اسکول کے باہر ایک پولیس افسر نے گردن سے پرتشدد طریقے سے پکڑ لیا۔اس نے یہ بھی کہا کہ ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک بہت سی گرفتاریاں اور حراستیں کی گئی ہیں، جس میں پیر کو ۱۶۴؍، منگل کو۴۴۰؍، اور بدھ کو۶۲۵؍ کا حوالہ دیا گیا۔ایمنسٹی نے لکھا، ’’بین الاقوامی قانون کے تحت، نابالغوں کی گرفتاری آخری حربہ ہونا چاہیے۔‘‘اس نے حکام سے ہتھیاروں کے استعمال کے بجائے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف احتجاج، میڈرڈ میں ۳۰۰؍ سے زائد خیمے نصب

ایمنسٹی نے مزید کہا، ’’پرامن طریقے سے نقل و حرکت میں حصہ لینے والے ہائی اسکول کے طلبہ `پریشانی پیدا کرنے والے نہیں ہیں۔ ہائی اسکول کے طلبہ صرف اپنے تعلیم کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں ، اگر وہ احتجاج کر رہے ہیںتو ان کے مطالبات سنے جانے چاہیے۔‘‘ساتھ ہی تنظیم نے ان لوگوں کی ہمیشہ حمایت کرنے کا عہد کیا جو پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کرتے ہیں۔ایمنسٹی نے مزید لکھا، ’’احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو سنا جانا چاہیے، دبایا نہیں جانا چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK