• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: طلبہ مظاہرین کے احتجاج کے دوران ۱۰۰ سے زائد تعلیمی عملہ زخمی: وزیر تعلیم

Updated: October 09, 2026, 8:04 PM IST | Paris

طلبہ تحریک کے آغاز کے بعد سے گزشتہ اعداد و شمار میں ۲۱۵ طلبہ اور تقریباً ۸۰۰ پولیس اہلکاروں اور جنڈرمز (gendarmerie) کے زخمی ہونے کا اندراج کیا گیا تھا۔ وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف جمعرات کے روز فرانس بھر میں ۷۱۵۰۰ افراد نے مظاہرہ کیا، جن میں پیرس کے ۲۴۵۰۰ افراد شامل تھے۔ حکام نے اس دن ۵۰۴ گرفتاریوں اور ۴۸ پولیس اہلکاروں اور جنڈرمز کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فرانس کے وزیرِ تعلیم ایڈورڈ جیفری نے جمعہ کے روز بتایا کہ ملک گیر ہائی اسکول مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک ۱۰۰ سے زائد تعلیمی عملہ زخمی ہوچکا ہے، جبکہ تعلیمی حالات میں بہتری کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کی جانب سے ناکہ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ ’لی پیرسئین‘ کے مطابق، پیرس کے قریب واقع کاشاں (Cachan) کے ایک ہائی اسکول میں طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات کے بعد جیفری نے صحافیوں کو بتایا کہ ”بدقسمتی سے، کل زخمی عملے کی تعداد ۱۰۰ کے ہندسے سے تجاوز کر گئی۔“ انہوں نے اس ”ناقابلِ بیان تشدد“ کی مذمت کی اور طلبہ اور اسکول کی عمارتوں کی حفاظت کرنے والے عملے کی تعریف کی۔

طلبہ تحریک کے آغاز کے بعد سے گزشتہ اعداد و شمار میں ۲۱۵ طلبہ اور تقریباً ۸۰۰ پولیس اہلکاروں اور جنڈرمز (gendarmerie) کے زخمی ہونے کا اندراج کیا گیا تھا۔ وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف جمعرات کے روز فرانس بھر میں ۷۱۵۰۰ افراد نے مظاہرہ کیا، جن میں پیرس کے ۲۴۵۰۰ افراد شامل تھے۔ حکام نے اس دن ۵۰۴ گرفتاریوں اور ۴۸ پولیس اہلکاروں اور جنڈرمز کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: عدالت نے مسلم طلبہ کے زیر تعلیم اسکول پر ۶؍ ماہ کی پابندی برقرار رکھی

واضح رہے کہ فرانس میں طلبہ اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں طلبہ کی حد سے زیادہ تعداد، ناکافی سہولیات اور اسکول کے اوقات کار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ جیفری نے کہا کہ ۳۰۲۴ متبادل اساتذہ سے تعیناتی کیلئے رابطہ کیا جا رہا ہے، جن کی ذمہ داریاں جمعہ کے روز بعد میں یا اگلے ہفتے کے اوائل میں متوقع ہیں اور اس کے ساتھ اضافی کنٹریکٹ اساتذہ کی بھرتی بھی کی جائے گی۔

اس کے باوجود، طلبہ تنظیموں نے ۱۳ اکتوبر کو مظاہروں کے ایک اور دن کی کال دی ہے، جبکہ کچھ نمائندے وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو کے ساتھ ملاقات کے خواہاں ہیں۔ جمعہ کے روز پیرس، رینس اور اسٹراسبرگ سمیت مختلف شہروں میں ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا، جس کے دوران پیرس کے لامرٹین اسکول کمپلیکس میں اور صبح کے وقت پینتھین-اساس یونیورسٹی میں کلاسیز منسوخ رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ بڑھتےاخراجات سے توجہ ہٹانے کیلئے میرا نام، مذہب استعمال کرتے ہیں:عبدل ایل سید

علیحدہ طور پر، پیرس کے استغاثہ نے ایک ایسی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار کو ایک مظاہرین کے چہرے پر گھٹنا مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس میں مظاہروں سے جڑے پولیس کے مبینہ تشدد پر نیشنل پولیس انسپکٹوریٹ (IGPN) کو بھیجے گئے مقدمات کی تعداد پانچ ہو گئی ہے، جبکہ ملک گیر سطح پر یہ تعداد ۲۱ سے تجاوز کر چکی ہے۔

سی ایف ڈی ٹی (CFDT) یونین کی لیڈر میری لیس لیون نے اساتذہ کی تعیناتی کو پہلے اقدام کے طور پر خوش آئند قرار دیا لیکن کہا کہ طلبہ کے وسیع تر مطالبات تاحال غیر حل شدہ ہیں، جبکہ انہوں نے مظاہروں پر پولیس کے ردِعمل کے متناسب ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK