• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوبیل امن انعام کی فاتح نوی پِلے نے ٹرمپ کے ساتھ ایوارڈ شیئر کرنے پر مذاق کیا

Updated: October 09, 2026, 8:04 PM IST | Nurenberg

نوبیل امن انعام کی فاتح نوی پِلے نے ٹرمپ کے ساتھ ایوارڈ شیئر کرنے پر مذاق کیا، جنوبی افریقی جج نے ایک تقریب میں سامعین سے کہا کہ اگر آپ تھوڑا اور تالی بجائیں تو میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ شیئر کر سکتی ہوں۔ تاہم انہوں نے یہ ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے نام وقف کیا۔

Nobel Peace Prize laureate Navi Pillay
۲۰۲۶ءکا نوبیل امن انعام جیتنے والی جنوبی افریقی جج نوی پِلے۔ تصویر: ایکس

۲۰۲۶ءکا نوبیل امن انعام جیتنے والی جنوبی افریقی جج نوی پِلے نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر مذاق کیا کہ وہ اس ایوارڈ کے مستحق ہیں، اور کہا کہ اگر سامعین نے تھوڑا اور تالی بجائی تو وہ اسے ان کے ساتھ شیئر کر سکتی ہیں۔ پِلے نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل اگنیس کالمارڈ کی شیئر کردہ ایک ویڈیو میں کہا،’’اگر آپ تھوڑا اور تالی بجائیں تو میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ شیئر کر سکتی ہوں۔‘‘ کالمارڈ نے کہا کہ جب انہیں ایوارڈ کا علم ہوا تو وہ نیورمبرگ ٹرائلز کے مقام پر پِلے کے ساتھ تھیں۔کالمارڈ نے لکھا، ایک ناقابل یقین لمحہ۔ نوی پِلے نے نوبیل امن انعام جیتا ہے۔ ہم اس وقت نیورمبرگ ٹرائلز میں ایک ساتھ ہیں۔ میں اس انعام کے لیے اس سے زیادہ اہل کے بارے میں نہیں سوچ سکتی۔ ہم سب بہت خوش ہیں۔‘‘بعد ازاں پِلے نے کہا کہ وہ انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے ساتھیوں کے درمیان گھری ہوئی ایوارڈ کے بارے میں جان کر خوش ہیں۔انہوں نے کہا، ’’آخری کام جو میں نے کیا وہ غزہ پر رپورٹ پیش کرنا ہے، وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نسل کشی قرار دینا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ بڑھتےاخراجات سے توجہ ہٹانے کیلئے میرا نام، مذہب استعمال کرتے ہیں:عبدل ایل سید

واضح رہے کہ پِلے نے جولائی۲۰۲۱ء سے۲۰۲۵ء میں اپنی رخصتی تک مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی صدارت کی۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کمیٹی کے سامنے کمیشن کے نتائج پیش کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس کے قانونی تجزیے نے غزہ میں نسل کشی کے لیے اسرائیل کی ذمہ داری قائم کی ہے۔پِلے نے کہا کہ رپورٹ پر اہم ردعمل میں سے ایک ان کی ہمت کی تعریف کرنا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ردعمل پر حیران ہیں۔انہوں نے کہا ،’’اور آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میں کتنی حیران ہوئی، سچ بولنے کے لیے ہمت کی ضرورت کیوں ہوگی؟آپ قانون کی تشریح کرتے ہیں، آپ تمام حقائق کو دیکھتے ہیں، لہذا یہ ایک غیر جانبدارانہ فیصلہ سازی ہے۔‘‘
مزید برآں ۸۵؍سالہ پِلے نے کہا کہ وہ میانمار کے خلاف گیمبیا کی جانب سے لائے گئے مقدمے میں ایڈہاک جج کے طور پر شامل رہیں گی اور نیورمبرگ پرنسپلز اکیڈمی کی حمایت جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا، ’’میں واضح طور پر نیورمبرگ پرنسپلز اکیڈمی کی حمایت میں اپنا کام بند نہیں کر سکتی ۔یاد رہے کہ پِلے کو امن کو فروغ دینے اور بین الاقوامی قانون کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے لیے ۲۰۲۶ء کا نوبیل امن انعام دیا گیا۔جبکہ پاکستان، اسرائیل اور کمبوڈیا نے کہا ہے کہ انہوں نے مختلف تنازعات  کو حل کرنے کی کوششوں میں ان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کو انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ علاوہ ازیںٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ خود اس ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلم ’نازا‘ کی نمائش کے بعد اسرائیل سے متعلق امریکی رائے۵۰؍ برس کی کم ترین سطح پر

بعد ازاں نوی پلے نے ایک پریس کانفرنس میں جمعہ کو اپنا ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کے متاثرین کے نام وقف کیا، اور عالمی لیڈروں سے بین الاقوامی قانونی اداروں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا،’’مجھے یہ ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کے تمام متاثرین کے نام وقف کرنے دیں۔‘‘انہوں نے یہ بیان جرمنی کے نیورمبرگ کے تاریخی کمرہ عدالت میں دیا جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد نازی لیڈروں پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔پِلے نے کہا، ’’شاید یہی مقدر تھا کہ میں اس تاریخی کمرہ عدالت میں تھی، جب اعلان کیا گیا اور مجھے ایوارڈ کے بارے میں بتایا گیا۔‘‘اس تقریب میں انہوں نے
بین الاقوامی قانونی اداروں پر حملوں کی بھی مذمت کی۔انہوں نے کہا،’’ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جب بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق نمایاں سیاسی حملے کی زد میں ہیں، سیاسی لیڈروں کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ آپ پر انسانی حقوق کے تحفظ اور جنگ سے باز رہنے کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK