فرانس نے ہنٹا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر آٹھ افراد کو پیرس میں قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ تمام افراد وائرس سے متاثرہ کروز شپ MV Hondius سے وابستہ ایک مریض کے قریبی رابطے میں آئے تھے۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 6:02 PM IST | Paris
فرانس نے ہنٹا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر آٹھ افراد کو پیرس میں قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ تمام افراد وائرس سے متاثرہ کروز شپ MV Hondius سے وابستہ ایک مریض کے قریبی رابطے میں آئے تھے۔
فرانس نے ہنٹا وائرس کے ایک مریض سے رابطے میں آنے والے آٹھ افراد کو پیرس میں قرنطینہ میں رکھ دیا ہے۔ یہ افراد وائرس سے متاثرہ کروز شپ’’ MV Hondius‘‘ سے واپس لائے گئے تھے۔ بدھ کو نشریاتی ادارے BFMTV نے رپورٹ دی کہ خطرے کی سطح بڑھنے کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔ یہ احتیاطی اقدام اُن افراد کیلئے کیا گیا ہے جو ایک ایسے سلسلۂ رابطہ کا حصہ تھے جس کا تعلق ایک فرانسیسی خاتون سے ہے، جو مبینہ طور پر ہنٹا وائرس کے باعث شدید بیمار ہیں اور MV Hondius پر موجود تھیں۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ فرانس میں وائرس کے مقامی پھیلاؤ کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روسی جوہری طاقت میں بڑا اضافہ، سرمت میزائل کا کامیاب تجربہ
یہ آٹھ افراد اُس پرواز کے بعد شناخت کئے گئے جس نے سینٹ ہیلینا سے جوہانسبرگ تک سفر کیا تھا، اور اس پرواز میں ہنٹا وائرس کا ایک تصدیق شدہ مریض بھی سوار تھا۔ ان میں سے پانچ افراد کو منگل کی شام پیرس کے Pitie-Salpetriere Hospital میں داخل کیا گیا، جبکہ رینز میں زیر علاج ایک مریض کو بھی پیرس منتقل کئے جانے کی توقع ہے، اسی طرح باقی دو افراد کو بھی وہاں منتقل کیا جائے گا۔ وزیرِ صحت اسٹیفنی رِسٹ نے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں وائرس کے پھیلنے کے کوئی آثار نہیں ملے، اور انہوں نے ماضی کی عالمی وباؤں کے تناظر میں پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی۔ حکام کے مطابق خطرے کی درجہ بندی میں تبدیلی کے بعد تمام آٹھ افراد پیرس میں قرنطینہ میں رہیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے سبب امریکیوں کو توانائی کی ۳۷؍ بلین ڈالر اضافی قیمت چکانی پڑی: تحقیق
بتا دیں کہ ہنٹا وائرس ایک نایاب بیماری ہے جو عموماً متاثرہ چوہوں یا ان کے فضلے کے ذریعے پھیلتی ہے، تاہم، اس وبا کے ذمہ دار وائرس کی قسم، Andes virus، انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق اب تک اس وبا کے نتیجے میں ۱۱؍تصدیق شدہ کیسز اور تین اموات سامنے آ چکی ہیں۔ اس کروز شپ سے اسپین میں اتارے گئے ایک فرانسیسی شہری کا اتوار کو ٹیسٹ مثبت آیا، جس کے بعد اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا۔ پیر کی شام لیکورنو نے بتایا کہ اس کی حالت مستحکم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ۴۵؍ ملین افراد کا غذائی تحفظ خطرے میں: اقوام متحدہ
اسپین میں اتوار اور پیر کو کئے گئے انخلا کے آپریشن میں ۲۳؍ ممالک کے مسافر اور عملے کے افراد شامل تھے، جبکہ مختلف ممالک میں صحت سے متعلق حفاظتی اقدامات مختلف تھے۔ لیکورنو نے کہا:’’ہماری صحت سے متعلق حکمتِ عملی واضح ہے۔ تمام رابطہ کیسز کیلئے، بغیر کسی استثنا کے، اسپتال میں سخت قرنطینہ نافذ کیا جائے گا۔ ‘‘عالمی ادارۂ صحت نے ۴۲؍دن تک نگرانی اور قرنطینہ کی سفارش کی ہے، چاہے وہ گھر میں ہو یا کسی طبی مرکز میں۔