• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاض: حوثی حملوں کا خدشہ، کنگڈم سینٹر کے دفاتر بند، ملازمین کو ورک فرام ہوم

Updated: October 19, 2026, 6:11 PM IST | Riyadh

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ۹۹؍ منزلہ کنگڈم سینٹر عمارت کی انتظامیہ نے تمام دفتری ملازمین کے لیے فوری طور پر گھر سے کام کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں اور ریاض میں تازہ سیکوریٹی الرٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ عمارت میں دفاتر عارضی طور پر بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم اس کے نچلے حصے میں واقع شاپنگ مال کھلا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سعودی عرب میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے خطرات کے درمیان دارالحکومت ریاض کی معروف کنگڈم سینٹر عمارت کی انتظامیہ نے دفتری ملازمین کو غیر معینہ مدت کے لیے گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق۹۹؍ منزلہ عمارت میں قائم دفاتر کے تمام ملازمین کے لیے یہ انتظام فوری طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ انہیں اگلے حکم تک دفتر نہ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے اپنے پیغام میں فیصلے کی کوئی مخصوص وجہ نہیں بتائی، تاہم یہ اقدام سعودی عرب میں حالیہ حملوں اور سیکوریٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ عمارت کی انتظامیہ نے ملازمین کو بھیجے گئے ای میل پیغام میں کہا، ’’براہِ کرم مطلع رہیں کہ کنگڈم سینٹر کے تمام دفتری ملازمین کے لیے فوری طور پر گھر سے کام کرنا لازمی ہے، اور یہ انتظام اگلے حکم تک نافذ رہے گا۔‘‘ پیغام میں ملازمین سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس مدت کے دوران دفاتر آنے سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج

کنگڈم سینٹر ریاض کی نمایاں ترین عمارتوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بڑی کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں۔ ان میں عالمی مالیاتی فنڈ، مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی میرل لنچ اور انتظامی مشاورتی ادارہ میک کنزی شامل ہیں۔ تاہم، عمارت کے نچلے حصے میں واقع شاپنگ مال معمول کے مطابق کھلا رہا۔ اس لیے انتظامیہ کے فیصلے کو پوری عمارت کی مکمل بندش یا انخلا قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ اعلان بنیادی طور پر دفتری ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے سے متعلق ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کے باعث اہم شہری اور تجارتی مراکز کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ۱۰؍ اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ۱۳؍ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جبکہ دارالحکومت میں تعلیمی اداروں نے بھی آن لائن تعلیم کے انتظامات جاری رکھے۔ حملوں کے سبب کاروباری سرگرمیوں، سفر اور روزمرہ معمولات پر بھی اثر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں: میکرون کا احتجاج پر اظہارِ شرمندگی

سعودی عرب میں کام کرنے والے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی اپنے ملازمین کی حفاظت کے لیے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، جے پی مورگن، ڈوئچے بینک اور سٹی گروپ نے سعودی عرب میں موجود ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی سہولت دی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری کمپنی فرینکلن ٹیمپلٹن نے ریاض میں اپنا دفتر عارضی طور پر بند کرکے ملازمین کو اگلے حکم تک گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکوریٹی خدشات صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی کاروباری ادارے بھی اپنے کام کے طریقوں میں تبدیلی کررہے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی ریاض کے علاقے میں دو ڈرونز، مشرقی صوبے میں ایک ڈرون اور ملک کے جنوبی حصے میں دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی اطلاع دی۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب حوثیوں کی جانب سے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ حوثی گروپ اپنے حملوں کو یمن پر سعودی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں کے جواب میں کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ان حملوں کو اپنی سلامتی اور اہم تنصیبات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فجرِ یمن کارروائی کا ۱۴؍واں روز، حوثیوں سے شدید جھڑپیں

اسی دوران سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کی سرحد کے قریب نجران کے علاقے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں 2 فوجی افسران کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق، اے ایچ ۶؍ آئی ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کارروائی میں سعودی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا، تاہم سعودی اتحاد نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی۔ سعودی عرب میں حالیہ حملوں کے باعث ملازمین کی حفاظت، کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے سوالات مزید اہم ہوگئے ہیں۔ کنگڈم سینٹر میں گھر سے کام کرنے کا لازمی انتظام اس بات کی مثال ہے کہ علاقائی کشیدگی کس طرح روزمرہ دفتری نظام کو بھی متاثر کررہی ہے۔ فی الحال انتظامیہ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کب ختم ہوگی، اس لیے ملازمین کی واپسی کے وقت کے بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK