واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کے ایک بیان نے امریکہ-برطانیہ تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے ’’خصوصی تعلق‘‘ کی اصطلاح کو پرانی سوچ قرار دیا۔ یہ بیان ایک ریکارڈنگ کے ذریعے سامنے آیا ہے، جس نے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 4:03 PM IST | Washington
واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کے ایک بیان نے امریکہ-برطانیہ تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے ’’خصوصی تعلق‘‘ کی اصطلاح کو پرانی سوچ قرار دیا۔ یہ بیان ایک ریکارڈنگ کے ذریعے سامنے آیا ہے، جس نے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں ایک ریکارڈنگ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے واشنگٹن میں سفیر نے کہا ہے کہ امریکہ کا واحد ’’خصوصی تعلق‘‘ شاید اسرائیل کے ساتھ ہے، اور انہوں نے اس اصطلاح کو ’’ماضی پرستی‘‘ اور’’پیچھے کی طرف دیکھنے والا‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب کنگ چارلس سوم اور کوئین کیملا واشنگٹن کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ کرسچن ٹرنر، جنہوں نے فروری میں اپنا عہدہ سنبھالا، نے یہ باتیں فروری کے وسط میں برطانوی طلبہ کے ساتھ ایک تقریب کے دوران کہیں۔ طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرنر نے کہا کہ انہیں برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کو بیان کرنے کیلئے’’خصوصی تعلق‘‘ کی اصطلاح پسند نہیں، اور اسے’’ماضی پر مبنی‘‘ قرار دیا، تاہم، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب بھی ’’مضبوط‘‘ ہیں۔
سیاست پر تبصرے
ٹرنر نے برطانیہ کی سیاست اور وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی پوزیشن پر بھی بات کی، کہتے ہوئے کہ ایک وقت ایسا تھا جب وہ (اسٹارمر) واضح طور پر مشکل میں تھے اور ان کا مستقبل کافی غیر یقینی نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے امریکی سیاسی نظام کو جیفری ایپسٹین اسکینڈل کے معاملے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ اس نے امریکہ میں کسی کو بھی متاثر نہیں کیا۔ ٹرنر نے یہ عہدہ پیٹر مینڈلسن کی برطرفی کے بعد سنبھالا، جو جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے ہٹا دیئے گئے تھے۔ مینڈلسن کو دسمبر۲۰۲۴ء میں مقرر کیا گیا تھا لیکن ستمبر ۲۰۲۵ءمیں انہیں برطرف کر دیا گیا، جب ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا کہ ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ مینڈلسن، جو طویل عرصے تک ایک سیاسی اسپن ڈاکٹر کے طور پر جانے جاتے رہے، نے اپنی سیاسی زندگی کا اختتام لیبر پارٹی اور ہاؤس آف لارڈز دونوں سے استعفوں کے ساتھ کیا۔