جمعہ کی رونق لوٹ آئی، نمازیوں میں زبردست جوش مگر احتیاط پر عمل

Updated: November 21, 2020, 6:00 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

چوتیس ہفتوں  بعد عام مصلیان نے نماز ِجمعہ مسجدوں میں ادا کی، ماسک کی پابندی اور ۲؍ گز کی دوری کا مکمل خیال رکھا گیا، بھیڑ سے بچنے کیلئے کہیں  دو تو کہیں  تین جماعتوں  کا اہتمام ، ٹرسٹیان کو نمازیوں کا مکمل تعاون، سینی ٹائزر اور تھرمل اسکینر کا استعمال۔لاک ڈاؤن کے دوران عبادتگاہوں   پر عائد پابندیوں   میں  ۱۶؍ نومبر سے ملنے والی چھوٹ کے بعد ۲۰؍ نومبر کو مساجد میں  جمعہ کی رونقیں  لوٹ آئیں ۔ممبئی سمیت پوری ریاست میں ۳۴؍ ہفتوں  بعد عام مصلیان نے مساجد میں  جمعہ کی نماز ادا کی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

لاک ڈاؤن کے دوران عبادتگاہوں   پر عائد پابندیوں   میں  ۱۶؍ نومبر سے ملنے والی چھوٹ کے بعد ۲۰؍ نومبر کو مساجد میں  جمعہ کی رونقیں  لوٹ آئیں ۔ممبئی سمیت پوری ریاست میں ۳۴؍ ہفتوں  بعد عام مصلیان نے مساجد میں  جمعہ کی نماز ادا کی۔اس دوران نمازیوں   میں جہاں تقریباً ۸؍ مہینے بعد مسجد میں  نما ز جمعہ ادا کرنے کا جوش تھا وہیں  اس بات کا خیال بھی تھا کہ کورونا کی وبا کے پیش نظر ضروری احتیاطی تدابیر کا خیال رکھانا ہے۔
لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے بعد پہلا جمعہ
 لاک ڈاؤن کے بعد مساجد میں   نماز جمعہ میں   عام مصلیان کی موجودگی سے جہاں  جمعہ کی رونق لوٹ آئی وہیں   بندگان خدا نے رب العزت سے کورونا کی اس وبا سے نجات کی دعائیں   مانگیں جس نے نہ صرف انہیں  بیمارکیا اور مالی پریشانیوں  میں  مبتلا کیا بلکہ مسجدوں سے بھی دور رہنے پر مجبور کردیا۔ حکومت کی گائیڈ لائن پر عمل آوری اور بھیڑ بھاڑ سے بچنے کی غرض سے شہر کی کئی قدیم اور تاریخی مساجد میں بھی ایک سے زائد جماعتوں  کا اہتمام کیاگیا۔ اس دوران مصلیان نے جہاں ماسک اور دوگز کی دوری کا پورا خیال رکھا وہیں   مساجد کے ٹرسٹیان نے بھی اس جانب خصوصی توجہ دی۔ کئی مساجد کے باہر ماسک تقسیم کئے گئے، مسجد میں  داخل ہونےو الوں کے ہاتھ سینی ٹائز کرنے کا نظم کیاگیا اور داخلے سے قبل تھرمل گن کے ذریعہ ان کی حرارت ناپی گئی۔ 
عام مسلمانوں  کے تعاون سے ٹرسٹی خوش 

تقریباً تمام ہی ٹرسٹیان نے یہ اعتراف کیا کہ مصلیان نے خصوصی تعاون کیا جس سے جمعہ کی نماز کے اہتمام کے دوران گائیڈ لائن پر عمل کرنے میں آ سانیاں ہوئیں ۔شہر ومضافات کی متعدد مسا جد کے ٹرسٹیان سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے اس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کہ مصلیان نے عملی تعاون پیش کیا ہے۔سڑک کے کنارے واقع بڑی مساجد کے قریب پولیس کے جوان بھی نگرانی پر مامور رہے اور انہوں نے بھی سوشل دسٹنسنگ کا مشاہدہ کیا۔ 
  ممبئی جامع مسجد کے چیئرمین شعیب خطیب نے بتایا کہ ایک طویل عرصے بعد خدا کے فضل سے جمعہ کی نماز کا پہلے کی طرح اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ہم سب نے اپنے رب سے یہ التجاء کی کہ کورونا وائرس کی وباء کو اپنی رحمت سے پوری طرح ختم‌ فرما دے تاکہ آئندہ کبھی پھر ایسے حالات نہ ہوں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نماز کے دوران سوشل دسٹنسنگ کا خاص خیال رکھا گیا، گیٹ پر خادم سینی ٹائزر لئے کھڑے رہے اور باربار حکومت کی گائیڈ لائن کی اعلانات کے ذریعے مصلیان کو یاددہانی کروائی گئی ۔ساتھ ہی مسلم برانچ اور مقامی پولیس کا بھی تعاون رہا۔ 
جامع مسجد میں  دو جماعتیں 
 اس کے علاوہ بھیڑ بھاڑ سے بچنے کے لئے جمعہ کی دو جماعتوں کا اہتمام کیا گیا۔نماز ختم‌ ہونے پر ٹرسٹ کی جانب سے جامع مسجد دارالافتاء کے مفتی محمد اشفاق قاضی نے ویڈیو پیغام کے ذریعے اطمینان کا اظہار اور مصلیان کا شکریہ ادا کیا۔ممبئی کی معروف قدیم مینارہ مسجد کے ٹرسٹی عبدالوہاب مرچنٹ نے کہا کہ اللہ رب العزت نے جمعہ کی نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرماکر ہم سب کو اپنی رحمت کی جھلک دکھائی ہے۔ اللہ پاک خصوصاً مسلمانوں کواور عموماً پوری انسانیت کو اس بلا سے محفوظ رکھے تاکہ پھر کبھی اس طرح کے حالات کی وجہ سے ایمان والوں پر اللہ کے گھر کے دروازے بند نہ ہوں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK